Official Web

اعصابی سائنسداں کی جانب سے دماغی بہتری کے 6 آسان ٹوٹکے

نیویارک: امریکی ماہرِ اعصابیات و نفسیات اور اس شعبے  میں ڈاکٹریٹ کرنے والی ماہرہ وینڈی سوزوکی نے اپنے تجربے کے بنیاد پر انتہائی قیمتی مشورے دیئے ہیں جن پر عمل کرکے دماغی مضبوطی، نفسیاتی اور اعصابی سکون اور توانائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ان کے 6 ٹوٹکے درج ذیل ہیں:

1: مثبت نتائج کا تصور کیجئے

دن کے آغاز سے انجام تک، اپنے، اپنے گھر کے اور بچوں کے تمام چھوٹے بڑے معاملات جب بھی یاد آئیں ان میں سے ہر ایک کا اختتام مثبت طور پر سوچیں اور اس کا ایک نقشہ یا خیالی منظر ذہن میں جمائیں۔ یہ نہیں کہ صرف اچھا انجام سوچیں بلکہ سب سے بہترین صورتحال کا تصور کیجئے۔

اس سے نہ صرف دماغ مثبت سوچنے لگے گا، جسم پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے بلکہ مسائل کے حل کے نئے راستے بھی نکلیں گے۔

2: بے چینی اور اضطراب کو ترقی میں بدلیں

مشکلات اور چیلنج میں ہماری دماغی لچک بڑھ جاتی ہے اور کوشش کی جائے تو اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ پرسکون کیسے ہیں، صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، خیالات کو مثبت انداز میں جمع کرکے درست فیصلے کئے جائیں۔

یعنی بے چینی اور منفی جذبات کو گھماکر دوسرے مثبت کاموں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جس کی لاتعداد مثالیں ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔

غصہ آپ کی توجہ کھاجاتا ہے اور عمل کو روکتا ہے لیکن اسی سے آپ جذبہ لے کر اپنی توجہ بڑھا سکتےہیں۔

خوف وہ جذبہ ہے جو ماضی کی ناکامیاں بھی یاددلاتا ہے، یہ توجہ اور ارتکاز کو تباہ کرتا ہے اور آپ کی صلاحیتوں کو گھن لگادیتا ہے ، یا پھر آپ کو درست اور واضح فیصلے میں مدد بھی دے سکتا ہے اور بدلتی ہوئی فضا میں آپ کے لیے مواقع بھی بڑھاتا ہے۔

اداسی سے دل بجھ جاتا ہے اور انسان حوصلہ ہارنے لگتا ہے یا پھر اس کی بدولت آپ اپنی ترجیحات نئے سرے سے مرتب کرسکے، ماحول اور واقع کو اپنے حق میں ہموار کرسکتے ہیں۔

پریشانی سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے اور انسان اپنے مقصد سے دور ہوتا جاتا ہے یا پھر آپ اپنے مسائل کے حل پر توجہ دے سکتےہ یں، اپنی توقعات کی درجہ بندی کرسکتے ہیں اور حقیقت پر مبنی منصوبے بناسکتے ہیں۔

فرسٹریشن سے دل بیٹھنے لگتا ہے یا پھر آپ اسے استعمال کرکے مزید بہتر کام کرسکتے ہیں۔

3: نئے کام آزمائیں

آج کل آن لائن سیکھنے کے مواقع بہت زیادہ ہیں اور ان پر توجہ دیجئے، کوئی نیا اور بالکل مختلف کورس کیجئے، کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لیجئے یا کسی ورچول تقریب میں شرکت فرمائیں۔ خلاصہ یہ کہ بار بار اپنے دائرہ آرام (کمفرٹ زون) سے باہر نکلیں اور کچھ نیا ضرور کیجئے۔

4: لوگوں سے رابطہ کیجئے

مایوسی، پریشانی اور اداسی میں دوستوں، اہلِ خانہ اور گھروالوں سے رابطہ کیجئے۔ ان کے تسلی بخش الفاظ سے فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف ایک نیا حوصل ملتا ہے بلکہ پریشانی اور گھبراہٹ کم ہوتی ہے کیونکہ جیسے جیسے آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ اکیلے نہیں ویسے ویسے آپ کا اعتماد بڑھتا جاتا ہے۔

اگر لوگ آپ کی سن رہے ہیں تو دل کی بات کرنے کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ اس لیے شدید ذہنی تناؤ کے دوران اپنے پیاروں سے مدد ضرور لیجئے۔

5: اپنے آپ کو مثبت ٹویٹس کیجئے

لِن مینوئل مرنڈا نے ہر روز اپنے آپ کو مثبت ٹویٹس کرتی ہے۔ انہوں نے ایک عرصے سے صبح اور شام کا یہ معمول بنارکھا ہے اور اب اس پر ایک چھوٹی سی کتاب بھی لکھ دی ہے۔ وہ مزاحیہ، شگفتہ اور مثبت جملے خود کو بھیجتی ہیں۔

یہی وجہ یہ ہے کہ وہ دماغی طور پر توانا اور پرامید ہیں ۔ اس کے بعد ان کی کارکردگی اور مسائل جھلینے کی صلاحیت بھی بڑھی ہے۔ ضروری نہیں کہ ٹویٹس لوگوں کو بھیجے جائیں بلکہ خود اپنے آپ کو کئے جائیں جس کو ایک مثبت یاددہانی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

اگر آپ خود یہ نہیں کرسکتے یا کسی الجھن میں ہیں تو کسی قریبی دوست یا جیون ساتھی سے کہیں کہ وہ اس میں آپ کی مدد کریں اور ٹویٹس بھیجیں۔

6: فطرت سے قریب رہیں

کئی تحقیقات سے واضح ہے کہ سبزے، درخت اور پرسکون قدرتی مقامات پر جار کر دماغی سکون ملتا ہے اور اس کے اثرات کئی ہفتوں تک برقرار رہتے ہیں۔ جذباتی صحت کے لیے گھنے درختوں میں جائیں، پارک میں بیٹھیں، وہاں کا سکوت محسوس کریں اوراسے روح میں اتارئیے۔

اسی جگہوں پر لمبےاور گہرے سانس لیجئے۔ اس سے پورے بدن میں ایک ایسی توانائی بڑھے گی جو آپ کو نامساعد حالات سے لڑنے میں مدد دے گی۔

%d bloggers like this: