Official Web

وائرس کے ماخذ کو ذمہ داری سے بچنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔ چین

چین کے قومی صحت عامہ کمیشن کے نائب سربراہ زنگ ای شین نے امریکی انٹیلی جینس ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ وائرس کے ماخذ کی رپورٹ پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ  پیشہ ور طبی ادارے کی بجائے امریکی  انٹیلیجینس ایجنسی نے ماخذ کی رپورٹ جاری کی، یہ عمل اپنے آپ میں ایک ستم ظریفی ہے۔ جس سے نمایاںطورپر  ظاہر ہو سکتا ہے کہ کون وائرس کے ماخذ کوسیاسی رنگ دے رہا  ہے۔ وائرس کے ماخذ کی تلاش ایک سائنسی مسئلہ ہے، یہ  سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔چینی حکومت  ہمیشہ سائنسی طریقے سے وائرس کے ماخذکی تلاش کی حمایت کرتی ہے لیکن اس کو سیاسی بنانےکی  مخالفت کرتی ہے۔
زنگ ای شین نے زور دیا کہ  وائرس کے ماخذ  کی تلاشکا کام ایک پیچیدہ سائنسی مسئلہ ہے، اس کی تحقیقات صرف دنیا بھر کے سائنسدانوں کے باہمیتعاون سےکی جانی چاہیئے۔ امید ہے کہ امریکہ یہ سمجھجائے گا کہ وائرس انسانیت کا مشترکہ دشمن ہے اوروائرس کے ماخذ کی تلاش کا کام سائنسی بنیادوں پر ہوناچاہیے، مختلف ممالک کے سائنسدانوں کے تعاون کیخوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور امریکہ سمیت مختلفممالک میں وائرس کے ماخذ کی تحقیقات کے لئےسائنسدانوں کی حمایت کی جانی چاہیے۔

%d bloggers like this: