Official Web

موسمیات سے متعلق سربراہی کانفرنس سے چینی صدر شی جن پھنگ کا اہم خطاب

موسمیات سے متعلق سربراہی کانفرنس بائیس تاریخ کو شروع ہوئی۔ چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ  بیجنگ نے ویڈیو  لنک کے ذریعے  اس کانفرنس سے اہم خطاب کیا ۔

شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی ماحولیاتی حکمرانی کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو پختہ عزم اور ٹھوس عمل کے ذریعے ذمہ داری نبھانی چاہیے اور بنی نوع انسان اور قدرتی حیات کے ہم نصیب سماج کی تعمیر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انہوں نے  نشاندہی کی کہ قدرت نے بنی نوع انسان کی پرورش کی ہے ، انسان کو قدرت کا تحفظ کرنا چاہیئے۔ اگر قدرت کو  منظم طریقے سے تباہ کیا گیا، تو  انسانی بقا اور ترقی جڑوں کے بغیر  درخت  کی طرح ہو گی۔ ہمیں اپنی آنکھوں کے تحفظ کی طرح قدرت اور ماحول کا تحفظ کرنا چاہیئے۔

شی جن پھنگ نے کہا کہ سرسبز پہاڑ سونے کے پہاڑ اور شفاف دریا چاندی کے دریا ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کا مطلب  پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ ہمیں قدرتی ماحول کو نقصان پہنچانے یا تباہ کرنے والے ترقیاتی راستوں کو ترک کرنا چاہئے ، اور عارضی ترقی کے عوض ماحول کو قربان کرنے کے  نظریے کو ترک کرنا چاہیے۔عالمی معیشت کی پائیدار ترقی صاف شفاف قدرتی ماحول سے وابستہ ہے۔

انہوں  کہا کہ حیاتیاتی ماحول تمام  ممالک کے لوگوں کی  خوشحالی  سے  وابستہ ہے۔ ہمیں لوگوں کو بہتر زندگی فراہم کرنے  ، اچھے ماحول سے متعلق ان کی توقعات کو پورا کرنے ، اور آنے والی نسلوں کےلیے تحفظ کو یقینی بنانے کو ذہن میں رکھنا چاہئے ۔  ماحولیاتی تحفظ ،معاشی ترقی اور روز گار  کے مواقع پیدا کرنے  اور غربت کے خاتمے کے لئے  موئثر  اقدامات اختیار کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سبز تبدیلی کے عمل میں، ہم معاشرتی عدل اور انصاف کے حصول کے لئے کوشاں رہیں گے اور تمام ممالک کے لوگوں میں کامیابی ، خوشی اور سلامتی کے احساس میں اضافہ کریں گے۔

شی جن پھنگ نے کہا کہ ماحول کے تحفظ کے لئَے ہمیں ماحولیاتی نظام کے اندرونی قانون کے مطابق ، تمام ماحولیاتی   عناصر پر غور  کرنا چاہیئے تاکہ  ماحولیاتی نظام  کی  صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کا مقصد پورا کیا جائے ۔ چین کو  بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر  منصفانہ اور انصاف پسندی کو کلیدی حیثیت  دیتے ہوئے موئثر اقدامات اپنا کر اقوام متحدہ کی قیادت میں عالمی نظام کا تحفظ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنی نوع انسان اور قدرتی حیات کے ہم نصیب سماج کی تعمیر کے لیے انسان اور قدرت کو ہم آہنگ کرنے ، ماحول دوست ترقی کرنے ، جامع حکمرانی کرنے ، بنی نوع انسان کو اہمیت دینے ، کثیرالجہتی پسندی ، اور مشترکہ طو پر اپنے اپنے فرائض ادا کرنے کے اصول پر قائم رہنا چاہیے۔   ترقی یافتہ ممالک کو   زیادہ سے زیادہ جذبے اور عملی اقدامات کا مظاہرہ کرنا چاہئے  اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت کو بلند کرنے کے لئے   ترقی یافتہ ممالک کو ترقی پزیر   ممالک  کی مالی اور تکنیکی   صلاحیتیں  کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ چین  کثیرالجہتی موسمیاتی حکمرانی کےعمل میں امریکہ کی واپسی کا خیرمقدم کرتا ہے۔ چین امریکہ سمیت عالمی برادری کے ساتھ مل کر عالمی ماحولیاتی حکمرانی کو آگے برھانے کا خواہاں ہے۔

اپنے خطاب میں چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین نے ماحول دوست  تصور ات کو آئین اور  ملکی ترقی کے جامع منصوبے میں شامل کیا ہے۔چین ماحول دوست  تصورات کی رہنمائی میں ترقیاتی طریقہ کار کو بہتر بنانے کی بنیاد پر ماحولیاتی ترجیح اور کم کاربن کی حامل ترقیاتی راہ پر گامزن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ چین سال دو ہزار تیس سے قبل کاربن اخراج کے عروج تک پہنچنے کے بعد سال دو ہزار ساٹھ سے قبل کاربن نیوٹرل ماحول حاصل کر لے گا۔ عالمی ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر میں  شراکت کار اور رہنما کی حیثیت سے  چین  کثیرالجہت پسندی کی راہ پر گامزن رہے گا، منصفانہ، مناسب اور مشترکہ مفادات کی حامل عالمی ماحولیاتی حکمرانی کے نظام کے قیام کو آگے بڑھائے گا۔

چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین ماحولیاتی تہذیب کے شعبے میں تعاون کو اہمیت دیتے ہوئے بنیادی تنصیبات کی ماحول دوست تعمیر، صاف شفاف توانائی  کی فراہمی، ماحول دوست ذرائع نقل و حمل اور ماحول دوست  ماحولیات سے وابستہ سلسلہ وار اقدامات کے ذریعے “دی بیلٹ اینڈ روڈ” سے وابستہ ممالک کے عوام کو خوشحال بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ چین نے چین “کاربن پیک ایکشن پلان” مرتب کررہا ہے ۔ “14 ویں پانچ سالہ منصوبے” کی مدت کے دوران کوئلے کی کھپت میں اضافے کو سختی سے کنٹرول کرے گا ، اور “15 ویں پانچ سالہ منصوبے” کی  مدت کے دوران اس میں آہستہ آہستہ کمی واقع ہوگی۔