Official Web

امریکی معاشرے کے تضادات کھل کر سامنے آنے لگے

دفتر خارجہ کسی بھی ملک میں نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس دفتر کے چیف سفارتکار کے طور پر وزیرخارجہ کا کردار اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے لیکن گزشتہ چار برس کے دوران امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو اپنی ناقص حکمتِ عملی کی وجہ سے امریکہ کو اس نہج پر لے گئے ہیں کہ امریکہ عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو گیا ہے۔ امریکہ میں داخلی انتشار عروج پر ہے، وبائی صورت حال سنگین ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق آج امریکی عوام تحفظ پسندی کے شکار اپنے چیف سفارت کار اور اعلیٰ رہنماؤں کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب وبا کی وجہ سے پوری دنیا کو عالمی سطح پر یکجہتی کی ضرورت تھی اور وبا کے چیلنج کے مقابلے کے لئے متحد ہونے کی ضرورت تھی پومپیو محض چین پر الزام تراشی میں مصروف رہے،   نتیجہ یہ ہوا کہ امریکہ میں وبائی صورت حال نہایت ابتر ہوگئی ہے۔ امریکہ کو جسے دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور سب سے ترقی یافتہ ملک ہونے کی وجہ سے اس مشکل گھڑی میں دنیا کی رہنمائی کرنا تھی۔ آج اس کے پاس اپنے لئے ہی کوئی لائحہ عمل اور واضح حکمت عملی نہیں ہے۔

سیاسی محاذ پر پومپیو پہلے چین کے خصوصی انتظامی علاقے ہانگ کانگ میں اختلافات کو ہوا دیتے رہے اور پھر ایک چین کے اصول اور چین امریکہ تین مشترکہ اعلامیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چین کے تائیوان علاقے میں دخل اندازی کے ذریعے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت  کےمرتکب ہوئے۔ کبھی وہ سنکیانگ میں مذہبی آزادی کے نام پر چین کے معاملات میں مداخلت کی کوشش کرتے رہے۔ آج ان کی انہی غلط پالیسیوں اور دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کا نتیجہ کپیٹل ہل کے فسادات کی صورت میں ظاہر ہوا۔

مائیک پومپیو نے نئے سال کا آغاز ایک نئے جھوٹ کےساتھ کیا ہے، جس کی زندہ مثال یہ ہے کہ انہوں نے ایک سے زائد بار کہا ہے کہ  امریکہ چار سال پہلے کینسبت زیادہ محفوظہے۔یہ کیسا محفوظ ملک ہے جہاں وبا کی وجہ سے تین لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ  امریکی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ امریکہ میں موجود نیا کے سب سے محفوظ ترین مقام کیپیٹل ہل میں ہزاروں مظاہرین گھس گئے، قومی املاک کو نقصان پہنچا  اور پانچ افراد ان فسادات میں اپنی جان سے گئے۔ کیپیٹل ہل پر ہونے والا پرتشدد واقعہ امریکی قومی حکمرانی اور نظام کی ناکامی کی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ آج کے امریکہ میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج بہت زیادہ واضح ہو چکی ہے۔امریکی معاشرہ نسلی بنیاد پر تقسیم معاشرہ  ہے۔   امریکہ کے بڑے ادارے بھی اسی معاشرتی منافقت کی زد میں نظر آتے ہیں۔ ملک میں فسادات روکنے کے لئے ملک کے سب سے اعلیٰ رہنما  کا ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹ تو بلاک کر دیا جاتا ہے لیکن ہانگ میں فسادات کا باعث بننے والے سینکڑوں جعلی ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹ نشاندہی کے باوجود بند نہیں کئے جاتے ۔

اگر امریکہ ایک بار پھر عظیم بننا چاہتا ہے اور ماضی کی ان غلطیوں سے  چھٹکارا پانا چاہتا ہے تو  اسے دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی بند کرنا ہوگی، منافقانہ طرز عمل ترک کرنا ہوگا۔ اسے  جو رویہ  اپنے لئے پسند ہے یہی دوسروں کے لئے اختیار کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام ممالک کے خود انتخاب کردہ ترقیاتی راستے کا احترام کرنا ہوگا۔