Official Web

سال نو کے موقع پر چینی وزیرخارجہ کا خصوصی انٹرویو

دو ہزار اکیس کے آغاز کے موقع پر چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیا ۔ اس دوران انہوں نے انسداد وبا ، سفارت کاری اور قومی مفادات کے تحفظ سمیت دیگر امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔
عالمی صورتحال اور چین کی سفارتی کاری کے حوالے سے وانگ ای نے کہا کہ سال 2020 چین کی سفارت کاری کے لیے مشکلات کا سامنا کرنےاور ان پر قابو پاکر آگے بڑھنے کا سال تھا۔ چین کے اعلیٰ سفارت کار کے طور پر انسداد وبا سے متعلق عالمی تعاون کا فروغ ان کے سفارتی امور میں شامل ایک نہایت اہم کام تھا۔ اس سال کے دوران چین کو سفارتی محاذ پر نوول کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ سیاسی وائرس کا مقابلہ بھی کرنا پڑا۔ چین نے اس دوران قومی مفادات کے دفاع کے ساتھ ساتھ عالمی استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے بھرپور کوششیں کیں۔
وبائی صورتحال کے دوران چینی وزارت خارجہ نے انسداد وبا کے “قومی دروازے” کا سختی سے دفاع کیا ہے، اندرون چین انسداد وبا اور پیداواری سرگرمیوں کی بحالی کے لئے بھرپور خدمات سر انجام دیں اور بیرون ملک مقیم چینی شہریوں کے تحفظ اور بچاؤ کے لئے بروقت اقدامات اختیار کئے ، دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ سفارتی تعلقات کومضبوط سے مضبوط تر بنایا ہے ، اس کے علاوہ “قومی مفادات کی” دفاعی جنگ “اور کثیر الطرفہ تعاون میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
قومی مفادات کے حوالے سے وانگ ای نے کہا کہ ہم نے قومی مفادات کے دفاع کے لیے محنت کی، امریکہ کے بلاجواز دباؤ کا عقلی انداز میں جواب دیا، اور تائیوان ، ہانگ کانگ ، سنکیانگ اور تبت سے وابستہ امور پر عقلی ، سودمند اور بھرپور جدوجہد کی اور ان تمام محاذوں پر نمایاں سفارتی کامیابیاں سمیٹیں۔ چین نے اپنی قومی خودمختاری ، قومی وقار اور ترقی کے حقوق اور مفادات کا مؤثر طریقے سے تحفظ کیا ہے۔
آخر میں وانگ ای نے کہا کہ 2020 میں چینی صدر شی جن پھنگ نے غیر ملکی رہنماؤں اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان سے ملاقاتوں اور بات چیت کے لئے کلاؤڈ ڈپلومیسی کا استعمال کیا ، اس دوران انہوں نے 22 اہم دو طرفہ اور کثیرالجہتی تقاریب میں شرکت کی۔ کلاؤڈ ڈپلومیسی کے ذریعے صدر شی جن پھنگ نے واضح کیا کہ وائرس کی کوئی معلوم سرحد نہیں ہے اور وبائی امراض رنگ ونسل میں فرق نہیں کرتے ہیں۔ انسانیت ایک ہم نصیب معاشرے میں سانس لے رہی ہے۔ ہمیں سائنسی جذبے کو برقرار رکھنا چاہئے ، انسداد وبا کے لیے بین الاقوامی تعاون اور ویکسین کے تعاون کو فروغ دینا چاہئے ، اور اس وبا کے خلاف مشترکہ طور پر ایک “حفاظتی دیوار” تعمیر کرنی چاہئے۔