Official Web

چین کھلے پن کو وسیع کرنے کی راہ پر گامزن رہے گا ، لی کھہ چھیانگ

پندرہ تاریخ کو ، چینی وزیر اعظم لی کھہ  چھیانگ نے ورلڈ اکنامکفورم گلوبل انٹرپرینیورز خصوصی ویڈیو  مکالمے میں ایک تقریر کرتےہوئے کہا کہ  وبا نے پہلے سے مشکلات سے دو چار عالمی معیشتخصوصا بین الاقوامی تجارت کی صورتحال کو مزید ابتر کردیا ہے۔ اس صورتحال میں ، ٹیکنالوجی اور صنعت کی نام نہاد  “ڈی کپلنگنہ صرف غیر مناسب  بلکہ ناممکن بھی ہے ۔ہمیں مشترکہ طور پرتجارت اور سرمایہ کاری  کی لبرلائزیشن اور سہولت کا تحفظ کرناچاہئے ، عالمی صنعتی سپلائی چین اور اہلکاروں کے تبادلے کو جلداز جلد بحال کرنا چاہئے ، اور عالمی معیشت میں جان ڈالنیچاہیے۔

انہوں  نے کہا کہ چین کی معیشت دنیا کی معیشت  کے ساتھگہرائی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ، چین دنیا کے بغیر ترقی نہیںکرسکتا ، اور دنیا کی ترقی کو بھی چین کی ضرورت ہے۔ بیرونی دنیامیں خواہ کیسی ہی تبدیلیاں کیوں نہ آئے  چین غیر  متزلزل طور پر کھلے پن کے راستے پر گا مزن رہےگا  اور تمام شعبوں میں کھلے پنکو توسیع دے گا۔

لی کھہ چھیانگ نے کہا کہ موجودہ صورتحال پر نظر ڈالیں تو چینیمعیشت مستحکم طور پر بحال ہو رہی ہے۔ سال میں اہم  اہدافکو پورا کیا جائے گا اور معیشت کی شرح نمو مثبت ہونے کی توقعہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے اور درمیانی صنعتی اداروں کی مددکے لیے ٹیکس اور فیس کی مد میں رواں سال  پچیس کھرب یوان کم کیے جانے کی توقع ہے۔