Official Web

ٹیبلٹ میں تبدیل ہونے والے سمارٹ فون پر کام شروع

سمارٹ فون کی خوبی یہ ہے کہ اس کی سکرین کو فولڈ کیا جا سکتا ہے جس سے اس کا حجم آدھا رہ جاتا ہے

سیؤل : ایل جی نے ایک اہم ایجاد کے حقِ ملکیت (پیٹنٹ) کی درخواست کی ہے جو ایک سمارٹ فون کو ٹیبلٹ بناسکتی ہے۔ پیٹنٹ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سمارٹ فون کا سکرین فولڈ ہوسکتا ہے اور لچکدار سکرین تہہ ہوکر آدھا رہ جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں نے اسے ایل جی کا فولڈ ایبل فون قرار دیا ہے۔ اگرچہ اس کی درخواست جولائی 2017 میں دائر کی گئی تھی تاہم اس کی تفصیلات حال ہی میں منظرِعام پر لائی گئی ہیں۔

ایل جی نے اپنی پیٹنٹ میں دو طرح کی ایجادات دکھائی ہیں۔ ان میں سے ایک لچکدار ڈسپلے والا ایسا فون ہے جو کاغذ کی طرح فولڈ ہوکر آدھا رہ جاتا ہے۔ دوسری تصویر میں ایک فون ہے جسے ’’ہائبرڈ ٹیبلٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ہائبرڈ، دو خواص والی کسی شے کو کہا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں نے ان پیٹنٹ خاکوں کو بغور دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ فون کے بیک پینل پر دو کیمرے ہیں۔ فولڈ ہونے پر اس کا اگلا حصہ معلومات دکھاتا ہے جن میں وقت اور تاریخ ظاہر ہورہی ہوتی ہیں۔

میش ایبل ویب سائٹ کے مطابق ایل جی بھی اب فولڈایبل فون کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس کا مطلب ایسا آئی فون ہے جو آئی پیڈ بھی بن سکتا ہے۔ اس طرح سام سنگ اور دیگر بڑے اداروں کی طرح ایل جی بھی اب فولڈ ہوجانے والے فون پر کام کررہا ہے۔ واضح رہے کہ سام سنگ اس سال فولڈ ہونے والے فون پر کام کررہا ہے۔ شاید اسے گیلکسی ایس کا نام دیا جائے گا۔ اسی طرح ایپل نے بھی ایک پیٹنٹ دائر کی ہے جس میں کتاب کی طرح کھلنے اور بند ہونے والا ایک فون دیکھا جاسکتا ہے۔

%d bloggers like this: