Official Web

نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے انتطامات مکمل، اتوار کو لندن جانے کا امکان

6

لاہور: سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے بیرون ملک علاج معالجے کے انتطامات مکمل کر لیے گئے ہیں، ذرائع کے مطابق اتوار کے روز ان کے لندن جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں ڈاکٹرز کا پینل تشکیل دیدیا گیا ہے۔ نواز شریف کا لندن پہنچتے ہی علاج شروع کر دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق بریکنگ سابق وزیراعظم کے صاحبزادے حسن نواز نے لندن میں ڈاکٹرز سے ملاقات کی اور اپنے والد کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹس سے انھیں آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ دل اور گردوں کے ماہرین سے ابتدائی مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔

ادھر حکومت نے نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ ای سی ایل سے نام نکالنے کے لئے وفاقی کابینہ کو خط لکھا جائے گا۔ کابینہ سے منظوری کے بعد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے گا جس کے بعد سابق وزیراعظم بیرون ملک روانہ ہو سکتے ہیں۔

سابق وزیراعظم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے درخواست وزارت داخلہ کو موصول ہوئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف، علاج کے لیے ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے بھی تمام مصروفیات ترک کر دیں ہیں، ان کی بھی بیرون ملک روانگی کا امکان ہے، نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے پر خاندان نے منایا۔

خیال رہے کہ سروسز ہسپتال کے سابق میڈیکل بورڈ نے سفر کیلئے نواز شریف کے 50 ہزار سے زائد پلیٹ لیٹس ہونا ضروری قرار دیا تھا، اس وقت نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد 30 ہزار سے کم ہے، دل کی ادویات بند کرنے سے بھی سفر میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ سابق میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کو جنیٹک ٹیسٹ تجویز کیا تھا جو پاکستان میں نہیں صرف بیرون ملک ہوسکتا ہے۔

ذرائع وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ شہباز شریف کی درخواست ملی ہے جس میں نواز شریف کی صحت خرابی کا حوالہ دیا گیا ہے اور بیرون ملک علاج کیلئے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست کی گئی ہے۔ وزارت داخلہ نے یہ معاملہ نیب کو بھجوا دیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق اس کے علاوہ شریف خاندان کی جانب سے نیب کو بھی درخواست کی گئی ہے جس میں شریف میڈیکل سٹی لاہورکے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی لگائی گئی ہے۔ وزارت داخلہ حکام کا کہنا ہے کہ درخواست کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات بروقت لئے گئے۔ وزارت داخلہ اپنی سفارش مجاز اتھارٹی کے سامنے رکھے گی۔