Official Web

صرف ایک بلڈ ٹیسٹ سے 8 اقسام کے کینسر کی تشخیص

نیویارک دنیا بھر میں کینسر کی تشخیص و علاج کے لیے فی منٹ ہزاروں ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں لیکن اس کی شناخت اب تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ ابصرف خون کے ایک نمونے سے کئے گئے ایک بلڈ ٹیسٹ سے 8 مختلف اقسام کے کینسر کی شناخت کرنا ممکن ہوجائے گا۔

خون کے اس نئے ٹیسٹ کو کینسر سیک کا نام دیا گیا ہے،عام طور پر سرطان کی شناخت ایک بہت مشکل عمل ہوتا ہے کیونکہ ان کے لیے مہنگے اور پیچیدہ طریقے استعمال ہوتے ہیں،اب کینسر سیک ٹیسٹ کے لیے خون کے ایک نمونے سے کئی اہم اقسام کے کینسر کی شناخت کی جاسکتی ہے ۔

اس ٹیسٹ کو تجرباتی طور پر ایک ہزار سے زائد افراد پر آزمایا گیا جس سے اس کی افادیت اور حساسیت دونوں ثابت ہوگئی۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن ، بالٹی مور کے ماہرین نے اس کے اولین نتائج بین الاقوامی شہرت یافتہ جریدے ’سائنس‘ میں شائع کرائے ہیں۔

کینسر سے نجات میں اس کی بروقت شناخت سے زیادہ کوئی اور شے اہم نہیں کیونکہ پہلے اور دوسرے درجے والا سرطان قابو کیا جاسکتا ہے، اسی لیے کینسر کی شناخت کے نئے طریقے بہت اہمیت رکھتےہیں، جب کوئی سرطانی رسولی بنتی ہے تو خون میں تبدیل شدہ ڈی این اے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے شامل ہوجاتے ہیں جنہیں ہم اس کینسر کی نشانی (بایومارکر) کہتے ہیں۔

نیا بلڈ ٹیسٹ 16 جینیاتی تبدیلیوں اور آٹھ پروٹین کے مارکر بھانپ سکتا ہے جو اپنے اپنے کینسر کو ظاہر کرتے ہیں، ان میں پھیپھڑوں، چھاتی، بڑی آنت، جگر، معدے، لبلبے اور ایسوفیگل کینسر شامل ہیں۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹرکرسچیان ٹوماسیٹی کہتے ہیں کہ یہ ٹیسٹ بہت سی جینیاتی تبدیلیوں اور پروٹین کو ایک ساتھ دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا کینسر لاحق ہوا ہے، اس کے بعد انہیں 1005 افراد پرآزمایا گیا جنہیں ان آٹھ میں سے ایک سرطان لاحق تھا۔

اس ٹیسٹ میں کینسر شناخت کرنے کی شرح 70 فیصد تھی، بریسٹ کینسر میں اس کی حساسیت 33 فیصد اور بیضہ دانی کے کینسر کی شرح 98 فیصد تھی جب کہ بقیہ پانچ کینسروں کے بارے میں اس کی حساسیت 69 سے 98 فیصد تھی، اگلے مرحلے میں اسے مکمل صحتمند افراد پر آزمایا گیا۔ 812 ایسے افراد لیے گئے جنہیں کسی طرح کا کوئی سرطان نہ تھا اور ان میں سے صرف 7 افراد کو اس نے مریض بتایا جسے فالس پوزیٹو تشخیص کہتے ہیں۔ اس ٹیسٹ نے ٹیومر کی شناخت بھی 83 فیصد درستگی سے کی جو ایک بہت اہم بات ہے۔

واضح رہےکہ کینسر اس وقت ایک بڑا چیلنج ہے اور اس کی اولین شناخت کے لیے دنیا بھر میں تحقیق کی جارہی ہے۔

%d bloggers like this: