Official Web

چین میں مہاجر پرندوں کے تحفظ کی کوششوں میں پاکستانی طالب علم کا اہم کردار

تائی یوآن (شِنہوا) موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی سائبیریا سے ہنس کے جھنڈ چین کے شمالی صوبے شنشی کی کاؤنٹی پھنگ لو میں دریائے زرد کے کناروں کی جانب ہجرت کرتے ہیں۔
یہ دلچسپ مظاہرہ بے شمارسیاحوں اور فوٹوگرافروں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
رواں موسم سرما میں پاکستانی طالب علم انیس الرحمان ان میں سے ایک تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پرندے مجھے اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں ان کی موجودگی ہمارے سیارے کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
پرندے اور فطرت کا مطالعہ ان کا شوق ہے جسے پورا کرنے کے لئے انہوں نے پاکستان سے ہزاروں میل کا سفر کرکے چین کی بیجنگ فارسٹری یونیورسٹی میں جنگلی حیات کے تحفظ کا مطالعہ کیا۔
چین میں اپنے قیام کے دوران انیس الرحمان نے باقاعدگی سے فیلڈ سرگرمیوں میں حصہ لیا اور ملک بھر میں جنگلی پرندوں کی رہائش گاہوں پر تحقیق کی جس سے انہیں چین میں کے حیاتیاتی ماحولیات اور پرندوں کے تحفظ کی کوششوں سے متعلق تفصیلی معلومات ملیں۔
کاؤنٹی کےمحکمہ جنگلات کے ایک ملازم وانگ چھاؤ نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں دریائے زرد طاس کا حیاتیاتی ماحول مسلسل بہترہورہا ہےاور یہاں موسم سرما میں جنگلی ہنس کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
قومی جنگلات اور سبزہ زار کی انتظامیہ کے مطابق چین پرندوں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کے مالامال ممالک میں سے ایک ہے۔ دنیا میں مہاجر پرندوں کی 9 گزرگاہ ہیں جن میں 4 چین سے گزرتی ہیں۔
انتظامیہ کی نگرانی کے سبب حالیہ برسوں میں چین میں 20 سے زیادہ نایاب اور معدومی کے خطرے سے دوچار پرندوں کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے کریسٹڈ آئی بیس خاص کر قابل ذکر ہے۔ 1980 کی دہائی میں اس کی تعداد محض 7 تھی جو اب بڑھ کررواں سال 7 ہزار ہوگئی ہے۔
انیس الرحمان نے کہا کہ چین کے بھرپور حیاتیاتی اقسام اور ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں اس کا عزم میرے یہاں آکر تعلیم حاصل کرنے کی بینیادی وجہ بنی۔ انہیں چین میں تیزی سے بدلتی ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب اس کی متحرک تحقیقی برادری میں حصہ لینے اور اس سے سیکھنے کا موقع ملا۔
چین نے مہاجر پرندوں کی نقل مکانی کے دوران ان کی بہتر تحفظ اور حفاظت کے لیے ایک جامع نیٹ ورک قائم کیا ہے جس میں افزائش نسل، سردی سے بچاؤ، آرام گاہیں ، ویٹ لینڈز اور قدرتی افزائش گاہیں شامل ہیں جو مہاجر پرندوں کی پروازوں کے ہر سرے کا احاطہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ برسوں کے دوران چین کے ماحولیاتی طریقہ کار میں مثبت تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔سخت قواعد و ضوابط، قابل تجدید توانائی میں بڑھتی سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی پر بڑھتی توجہ ماحولیاتی اعتبار سے باشعور نقطہ نگاہ کی سمت تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
مہاجر پرندوں کو محفوظ رہائش گاہیں اور افزائش کے مقامات فراہم کرنے جیسے مؤثر حفاظتی اقدامات کی بدولت چین میں مہاجر پرندوں کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر نے چین میں کچھ نایاب جنگلی حیات کے معدوم ہونے کا خطرہ کم کردیا ہے ان میں سرخ تاج والے سارس اور کریسٹڈ آئی بیس شامل ہیں۔
انیس الرحمان نے کہا کہ اپنی تحقیق جاری رکھنے اور مشترکہ تحفظ منصوبوں میں شامل ہونے کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ میں عالمی کوششوں میں حصہ لینا اور جنگلی حیات و مقامی برادریوں دونوں کے فائدے کے لئے پائیدارطریقوں کو فروغ دینا ہے۔

%d bloggers like this: