Official Web

ایک ہفتے کے دوران 33 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ

اسلام آباد: ملک بھر میں ایک ہفتے کے دوران اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا، سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 38.63 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

ملک میں مہنگائی میں اضافہ کا رجحان بدستور جاری ہے گذشتہ ہفتے کے دوران ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں0.82 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 38.63 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک ہفتے میں 33 اشیائے ضروریہ مہنگی جب کہ 4 اشیاء کے نرخوں میں کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔

ادارہ شماریات کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے اس حوالے سے وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی بارے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق چار اگست 2022 کو ختم ہونے والے والے ہفتے کے دوران ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں 0.82 فیصد اضافہ ہوا اور سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی 38.62 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق عداد و شمار کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پیاز 24.92 اور ٹماٹر 11.93 فیصد مہنگا ہوا، دال مونگ 5.72 اور دال ماش 5.28 فیصد مہنگی ہوئی، آلو 5.03 اور دال مسور 4.43 فیصد مہنگی ہوئی۔

ادارہ شماریات کے مطابق ڈیزل 3.78 اور ایل پی جی کی قیمت میں 1.49 فیصد اضافہ ہوا، حالیہ ہفتے دال چنا، انڈے، لہسن، گڑ  بھی مہنگا ہوا جب کہ ایک ہفتے میں چکن 5.08 اور فی کلو گھی 0.15 فیصد سستا ہوا ہے، جبکہ جن 4 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی ان میں چکن اور پٹرول سمیت دیگر اشیاء شامل ہیں۔

وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ہفتے ہے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 32.88 فیصد، 17 ہزار 733 روپے سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 38.44 فیصد، 22 ہزار 889 روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں36.26 فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں36.21 فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176 روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 38.73 فیصد رہی ہے۔

%d bloggers like this: