Official Web

‎آئی سی آر سی مشاورتی ورکشاپ: میڈیا نمائندوں کی تربیت پر زو

کسی بھی ملک میں میڈیا کے اہم کردار کے پیش نظر، مشاورتی اجلاس کے شرکا نے صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کی ہیلتھ رپورٹنگسے متعلق تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔

میڈیا نمائندوں، میڈیا ذمہ داران اور طبی ماہرین کی بڑی تعداد نے انٹر نیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (ICRC)، APPNA انسٹیٹیوٹآف پبلک ہیلتھ، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور خیبرمیڈیکل یونیورسٹی کے اشتراک سے ہونے والی ایک مشاورتی ورکشاپ میںشرکت کی۔

آئی سی آر سی کے شعبےہیلتھ کئیر اِن ڈینجر انیشیٹیوکے تحت ہونے والی اس ورکشاپ کا مقصد صحافیوں کے لیے ایک ٹریننگترتیب دینا ہے تاکہ پاکستان میں صحت کے امور پر ہونے والی رپورٹنگ میں اخلاقی ذمہ داری کا احساس اجاگر کیا جاسکے۔

اس موقع پر AIPH-JSMU کی چئیر پرسن ڈاکٹر لبنی بیگ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا، کئی تحقیقی رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرچکی ہیں کہ غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ ہنگامی طبی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صحتکے امور سے متعلق رپورٹنگ کا معیار بلند کرکے غلط تاثر کو زائل کیا جائے، حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو فروغ دیا جائے، طبی  عملےاور عام لوگوں کے بیچ بڑھتی ہوئی عدم اعتمادی کو ختم کیا جائے۔

ورکشاپ میں ماہرین نے صحت کے معاملات پر ہونے والی رپورٹنگ سے متعلق مسائل پر غور و فکر کیا اور ٹریننگ کے مواد کو بہتربنانے کے لیے اپنی آراء پیش کیں کہ کس طرح مناسب تربیت کے ذریعے صحت سے متعلق رپورٹنگ کو مناسب اور ذمہ دار بنایا جاسکتا ہے۔ شرکا نے صحت کے امور پر رپورٹنگ کے اخلاقی معیارات پر ٹریننگ دینے کے ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ اس جاریمشق کا جائزہ وقتا فوقتا لیتے رہنا چاہیے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے طبی کارکن مشکلصورت حال میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ خاص طور سے وہ کارکن جو شعبہ ایمرجنسی میں زندگیوں کے بچاو کے لیے خدماتفراہم کر رہے ہیں۔ انہیں  ضرورت ہے کہ لوگوں  کے رویوں اور طرز عمل کو بہتر بنایا جائے  اور اس کام کے لیے میڈیا کے نمائندوں کیضرورت درکار ہے ۔

ورکشاپ میں موجود میڈیا نمائندوں نے خاص طور پر صلاحیتوں میں اضافے اور تربیت کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نےاس بات پر بھی زور دیا کہ طبی کارکن بہتر طریقے سے اپنے کام، صورتحال اور پیغام کو میڈیا نمائندوں تک پہنچائیں تاکہ مثبت نتائجحاصل ہو سکیں۔

ایچ سی آئی ڈی اینیشیٹیو کے تحت آئی سی آر سی صحت عامہ کے اداروں، میڈیکل اکیڈمی، ہیلتھ کئیر اتھارٹیز اور پاکستان  ہلالاحمر سمیت متعدد شراکت داروں کے ساتھ مل کر ثبوت و شواہد پر مبنی اقدامات کو فروغ دے کر پاکستان میں صحت کی دیکھ بھالکرنے والے عملے کو تحفظ فراہم کرنے پر کام کررہا ہے۔

%d bloggers like this: