Official Web

‎وزیراعظم عمران خان نے پہلی قومی سلامتی پالیسی کےعوامی ورژن کا اجراء کر دیا

، اس حوالے سے جمعہ کو وزیراعظم آفس میں ایک تقریب ہوئی ، تقریب میں وفاقی وزراء ، قومی سلامتی کے مشیر ، ارکان پارلیمنٹ ،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ، تمام سروسز چیفس ، سینئر سول و فوجی حکام ، ماہرین ، تھنک ٹینکس ، میڈیا اور سولسوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔ وزیراعظم عمر ان خان نے اپنے کلیدی خطاب میں اپنی حکومت کے قومی سلامتیپالیسی کی تشکیل کے کامیاب اقدام کو اجاگر کیا ۔ وزیراعظم  عمران خان نے کہاکہ قومی سلامتی پالیسی ان کی حکومت کی اولینترجیح تھی ، وزیراعظم نے یہ ہدف حاصل کرنے پر قومی سلامتی کے مشیر اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی ۔ انہوں نے پالیسی پرکامیاب عمل درآمد کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اعلان کیا کہ قومی سلامتی کمیٹی باقاعدگی سے اس پر پیش رفت کا جائزہ لے گی ۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ قومی سلامتی پالیسی 2022-2026کا محور حکومت کا وژن ہے جو کہ یقین رکھتی ہے کہ ملکی سلامتیکا انحصار شہریوں کی سلامتی میں مضمر ہے  ، کسی بھی قومی سلامتی پالیسی میں قومی ہم آہنگی اور لوگوں کی خوشحالی کوشامل کیا جانا چاہئے  جبکہ بلاامتیاز بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کی ضمانت ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ اپنے شہریوں کیوسیع صلاحیتوں سے استفادہ کے لئے خدمات پر مبنی اچھے نظم و نسق کو فروغ دینا ضروری ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہماری مسلحافواج ، ہمارا فخر ہیں ۔ خطے میں ہمیں درپیش خطرات اور ہائبرڈ وار کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے تناظر میں انہیں ہماری طرف سے بڑیاہمیت اور حمایت حاصل رہے گی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہماری خارجہ پالیسی کا بڑا مقصد خطے اور خطے سے باہر امن و استحکامرہے گا  ، ہماری خارجہ پالیسی میں  جاری معاشی خارجہ پالیسی پر مزید توجہ مرکوز کی جائے گی ۔ قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹرمعید یوسف نے اظہار خیال کرتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی کا وژن تفصیل سے بیان کیا ۔ انہوں نے مسلسل  تعاون پر وزیراعظمعمران خان اور تمام حکام کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہاکہ قومی سلامتی پالیسی  ہماری سلامتی پر اثر انداز ہونے والے روایتی اورغیر روایتی مسائل کے وسیع تناظر میں تشکیل دی گئی ہے ۔ قومی سلامتی پالیسی  میں معاشی سلامتی ، جیوسٹریٹجک اور جیوپولیٹیکل پہلوئوں کا محور ہے  جس میں پاکستان کی سلامتی  کا استحکام اور دنیا میں مقام حاصل کرنا نمایاں خصوصیات ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس دستاویز کو  مکمل سول ملٹری اتفاق رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے ۔

%d bloggers like this: