Official Web

دنیا بھر کے 80 فیکٹ چیک اداروں کا یوٹیوب سے جعلی معلومات روکنے کا مطالبہ

واشنگٹن: دنیا بھر سے حقائق کی جانچ کرنے والی 80 سے زیادہ تنظیموں نے یوٹیوب پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے پلٹ فارم پر غلط معلومات کے سدباب کے لیے مزید اقدامات کرے اور ’جعلی خبریں پھیلانے والے لوگوں‘ کی حوصلہ شکنی کے لیے سخت قوانین اپنائے۔  

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یوٹیوب کے سربراہ سوسن ووجکی کو تحریر کیے گئے خط میں کینیا کی ’پولیٹیفیکٹ‘ اور امریکا میں واشنگٹن پوسٹ تک کے گروپس نے پلیٹ فارم کو جعلی معلومات یا جھوٹے بیانات کے سدباب کے لیے اپنی خدمات کی پیشکش کی۔

خط میں کہا گیا کہ ہر گزرتے روز کے ساتھ  ہم دیکھتے ہیں کہ یوٹیوب دنیا بھر میں غلط معلومات پھیلانے کا ایک بڑا ذریعہ ہے، غلط معلومات پر مشتمل ویڈیوز پلیٹ فارم کی پالیسیوں کے ’رڈار کے نیچے‘ چلی جاتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم یوٹیوب پر زور دیتے ہیں کہ آپ غلط معلومات کے خلاف موثر کارروائی کریں اور دنیا کی آزاد، غیر جانبدار حقائق کی جانچ کرنے والی تنظیموں کے ساتھ تعاون کریں۔

مراسلے میں کہا گیا کہ حقیقت کی جانچ کرنے والوں کے طور پر ہمارا تجربہ علمی شواہد کے ساتھ بتاتا ہے کہ حقائق کی جانچ کی گئی معلومات کو ظاہر کرنا مواد کو حذف کرنے سے زیادہ مؤثر ہے۔

اپنی سفارشات میں گروپس نے یوٹیوب سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاق و سباق فراہم کرنے اور جعلی معلومات کو غیر فعال بنانے کی پیشکش پر غور کرے اور اس پر زور دیا کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کا تجویز کردہ الگورتھم اپنے صارفین کو غلط معلومات کے فروغ میں معاونت فراہم نہ کرے۔

یوٹیوب کی ترجمان ایلینا ہرنینڈز نے پلیٹ فارم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حقائق کی جانچ ایک ’اہم ٹول‘ ہے، ہم نے تمام ممالک میں پالیسی سمیت مصنوعات پر خطیر رقم خرچ کی ہے تاکہ جعلی معلومات کے پھیلاؤ میں کمی اور تشدد پر مبنی ویڈیوز ہٹائی جا سکے۔

%d bloggers like this: