Official Web

چین اور ترکی کے وزرائے خارجہ کی ملاقات

چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے چین کے صوبہ جیانگ سو   کے شہر ووشی  میں ترک وزیر خارجہ میوئیلت چووشولو  کے ساتھ ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔دونوں فریقوں نے قازقستان کی صورتحال اور مشترکہ تشویش کے دیگر بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
وانگ ای نے کہا کہ چین علاقائی اور بین الاقوامی امور میں ترکی کے منفرد کردار کو بہت اہمیت دیتا ہے اور کثیر جہت تعاون  کو مضبوط بنانے، حقیقی کثیرالجہتی کے مشترکہ تحفظ اور چین اور ترکی سمیت ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کا خواہش مندہے۔
چینی وزیرِخارجہ نے امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان جوہری آبدوزوں کے تعاون سے متعلق چین کا موقف پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تینوں ممالک کے اس اقدام نے ایک بری مثال قائم کی ہے، جو لامحالہ جوہری پھیلاؤ کے خطرے کا باعث بنے گی اور علاقائی سطح پر ہتھیاروں کی دوڑ  کے ایک نئے دور کو ہوا دے گی، اس نے خطے کے ممالک میں شدید عدم اطمینان کو جنم دیا ہے۔
   ترک وزیر خارجہ  نے کہا کہ ترکی "مڈل کوریڈور” کے منصوبے اور "دی بیلٹ اینڈ روڈ” کی مشترکہ تعمیر کے درمیان رابطے کو مضبوط کرنا چاہتا  ہے۔ ترکی دوطرفہ جوہری توانائی بجلی کے تعاون کو فروغ دینےاورنئی  توانائی کےتعاون کے وسیع امکانات سے بھرپور انداز میں استفادہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے سنکیانگ سے متعلق امور پر بھی تفصیلی  تبادلہ خیال کیا۔وانگ ای نے واضح الفاظ میں کہا کہ سنکیانگ امور کی اصلیت ،پرتشدد انتہاپسندی اور علیحدگی پسندی  کی مخالفت کرنا ہے۔امریکہ سمیت مغربی ممالک سنکیانگ امور کے حوالے سے بے حد جھوٹ پھیلا کر چین کی ترقی میں رکاوٹ کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔امید ہے کہ ترکی سمیت اسلامی ممالک سنکیانگ امور پر چین کے جائز موقف کی حمایت کریں گے۔
%d bloggers like this: