Official Web

کوئی مقدس گائے نہیں، جو کرے گا وہ بھر ے گا: چیئرمین نیب

چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے، جو کرے گا وہ بھرے گا۔

لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس دلوانا مشکل کام ہے، کرپشن نے ملک کو اتنا برباد کیا ہے کہ عام آدمی کا جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ چائے کی پیالی میں طوفان برپا کیا جاتا ہے کہ ریکوری کے اربوں روپے کہاں گئے، تمام ریکوری پیسوں میں نہیں ہوتی کہ قومی خزانے میں جمع کرائیں، نیب کو متنازع اس لیے بنایا جاتا ہےکہ طاقتور لوگوں سے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا پوچھا۔

ریکوری ہمارے پاس امانت ہے، خیانت کا کبھی خیال بھی نہیں آیا
ان کا کہنا تھا کہ نیب کا مکمل آڈٹ تین بار ہو چکا ہے، دو چار معمولی لیپس کے علاوہ کوئی مسئلہ نہیں آیا، نیب کی جانب سےگوادر میں ریکور کرائی گئی زمینوں کی مالیت کھربوں میں ہے، ریکوری ہمارے پاس امانت ہے، خیانت کا کبھی خیال بھی نہیں آیا، ہمارے پاس براہ راست اور بالواسطہ ریکوری کا مکمل حساب موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ نیب کی بنیاد پر سیاست میں زندہ رہنا چاہتے ہیں، ان کی صبح بھی نیب پر تنقید سے شروع ہوتی ہے اور شام بھی نیب پر تنقید سے ہوتی ہے، تنقید ہونی چاہیے لیکن جائز ہونی چاہیے، ایک صاحب نے بڑے دبنگ طریقے سے کہا کہ نیب کے افسران رشوت لیتے ہیں میرے پاس ثبوت ہے، میں آج کہتا ہوں ثبوت لے آئیں میں 48 گھنٹے میں کارروائی کروں گا۔

نیب کو متنازع بنانے کیلئے بعض اوقات نان ایشوز کو بھی ایشو بنایا گیا
ان کا کہنا تھا کہ نیب کے کیسز کا فیصلہ کرنا میرے اختیار میں ہو تو اس میں سالہا سال نہ لگیں، 1386 ارب روپے کی رقم زیرا لتوا کیسز میں شامل ہے، نیب کو متنازع بنانے کیلئے بعض اوقات نان ایشوز کو بھی ایشو بنایا گیا۔

چیئرمین نیب نے سوال اٹھایا کہ پاپڑ والا اور چھابڑی والا اتنے امیر کیسے ہو گئے؟ نیب نے جو جنگ شروع کی ہے اس نے جاری رہنا ہے، آج تک جتنے ریفرنسز بنے ایسا نہیں ہے کہ ہوا میں معلق ہیں۔

اگر نیب کی کوئی ہمدردی ہے تو پاکستان اور اسٹیٹ کے ساتھ ہے
انہوں نے کہا کہ اگر ہر کوئی اپنے حصے کا دیا جلائے گا تو پورا پاکستان روشن رہے گا، کوئی بھی شخص یا ادارہ کرپشن کے ناسور کو اکیلا ختم نہیں کر سکتا، نیب کیخلاف بعض اوقات شرمناک پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، میں اس کی مذمت کرتا ہوں، اگر نیب کی کوئی ہمدردی ہے تو پاکستان اور اسٹیٹ کے ساتھ ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب کو پرو گورنمنٹ کہنے سے زیادہ کوئی ظالمانہ تنقید نہیں ہو سکتی، یہاں کوئی مقدس گائے نہیں، جو کرے گا وہ بھر ے گا، تنقید کرنے والے بتائیں کہ کتنے کیسز عدالتوں میں جمع کرائے؟ آپ نیب کو جتنی بھی گالیاں دیں، اس سے آپ کا کیس ختم نہیں ہو گا، آپ کا کیس ختم ہو گا تو میرٹ پر ختم ہو گا۔

%d bloggers like this: