Official Web

ہیموفیلیا اے کے علاج میں انقلابی پیش رفت

 لندن: برطانوی ڈاکٹروں کا کہنا  ہے کہ انہوں نے ہیموفیلیا اے کے مرض کے علاج کا ایک طریقہ وضع کیا ہے جس کے نتائج بقول ان کے ’ ہوش ربا‘ ہیں۔  

ہیموفیلا اے ایک جینیاتی مرض ہے جس کے مریض خون روکنے یا جمانے والے ایک اہم پروٹین سے عاری ہوتے ہیں اور ان کی چوٹ سے مسلسل خون بہتا رہتا ہے۔ برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) نے دیگر اداروں کے اشتراک سے جین تھراپی وضع کی ہے اور اس کے حیرت انگیز نتائج اس وقت سامنے آئے جب مریض قریباً نارمل ہوگئے۔

اگرچہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسے مریضوں کی تعداد بہت کم  ہے لیکن یہ کمیاب مرض زندگی بھر کا روگ بن جاتا ہے۔ اس ضمن میں 29 سالہ جیک عمر کا علاج کیا گیا جنہیں معمولی چوٹ کے بعد بھی مسلسل خون بہنے کی شکایت تھی۔ ان کے جسم میں خون جمانے والا ایک عنصر فیکٹر ایٹ پیدائشی طور پر غائب تھا۔  یہاں تک کہ چہل قدمی کرنے پر بھی ان کے جوڑوں سے خون بہتا اور وہ دھیرے دھیرے گٹھیا کا شکار ہورہے تھے۔

زندہ رہنے کے لیے جیک عمر ہفتے میں تین مرتبہ فیکٹر ایٹ کے ٹیکے استعمال کررہے تھے لیکن فروری 2016 میں ان کی جین تھراپی شروع ہوگئی۔  اب وہ کہتے ہیں کہ مجھے نئی زندگی مل گئی ہے اور میں اب بہت سارے کام کرسکتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ  اس سے قبل  وہ 500 میٹر بھی نہیں چل سکتے تھے لیکن اب دو، تین اور چار میل تک آسانی سے چلتے ہیں۔ انہوں نے کہا ایسا لگتا ہے کہ میں ایک جدید ترین روبوٹ بن گیا ہوں۔

جین تھراپی

اس کامیاب جینیاتی علاج میں ایک تبدیل شدہ وائرس استعمال ہوا ہے جس میں فیکٹر ایٹ بنانے کی ہدایات ہیں ۔ یہ وائرس سیدھا انسانی  جگر کو ہدایات دیتا ہے کہ وہ فیکٹر ایٹ بنائے اور جگر خاموشی سے اس پر عمل کرتا ہے۔ اس ضمن میں 13 مریضوں کو ہیموفیلیا جین تھراپی سے گزارا گیا تو ایک سال بعد 11 مریضوں کا جسم فیکٹر ایٹ بنانے لگا۔ ان تمام آزمائشوں کے نگرانی پروفیسر جان پاسی نے کی جو لندن میں بارٹس اینڈ کوئین میری یونیورسٹی کے سائنسدان ہیں۔

ڈاکٹر جان پاسی کا کہنا تھا کہ یہ ایک اہم ترین پیش رفت ہے جس میں مریضوں کی اکثریت نارمل ہوگئی اور وہ ہیموفیلیا سے پاک ہوگئے۔

اس ضمن میں 9 مریضوں کا طبی احوال نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع کرادیا گیا ہے تاہم یہ جاننے میں وقت لگے گا کہ جین تھراپی کتنے عرصے تک مؤثر رہے گی۔