Official Web

چین کا ترقی پذیر ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ویکسین کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ

اٹھائیس ستمبر کو ، جنیوا میں اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے چھن شو نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 48 ویں سیشن میں پاکستان، روس ، جنوبی افریقہ ، مصر ، میکسیکو اور انڈونیشیا   سمیت 30 سے ​​زائد ترقی پذیر ممالک  کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی سطح پر ویکسین کی منصفانہ تقسیم کو عملی جامہ پہنانے پر زور دیا ۔

چھن شو نے کہا کہ کووڈ۱۹ کی وبا اب بھی پھیل رہی ہے ، اور ویکسین اس وبا پر قابو پانے کا ایک طاقتور ہتھیار ہے اور اسے عالمی سطح پر عوامی مصنوعات بننا چاہیے۔ تاہم ، اس وقت ، دنیا میں ویکسین کی غیر مساوی تقسیم اور غیر متوازن ویکسینیشن کے مسائل اب بھی نمایاں ہیں ، اور "امیونائزیشن گیپ” کے مسئلے کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔

چھن شو نے  کہا کہ ہم عالمی سطح پر ویکسین کی منصفانہ تقسیم کے لیے اقوام متحدہ کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں اور تمام ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ معاشی مفادات اور سیاسی تحفظات جیسے دیگر عوامل کی بجائے لوگوں کے زندگی اور صحت کے حق کو اولین ترجیح دیں۔ ہم رکن ممالک اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ویکسین کی پیداوار بڑھائیں ، برآمد ات، عطیات ، مشترکہ تحقیق ، پیداواری حقوق  ، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے ترقی پذیر ممالک میں ویکسین کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں ، اور ویکسین کے  دانشورانہ املاک کے حقوق کی معافی کی حمایت کریں۔ ہم مدد فراہم کرنے کے قابل ملکوں سے بین الاقوامی ترقیاتی تعاون میں فعال طور پر حصہ لینے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ترقی پذیر ممالک کو پائیدار ترقی کے حصول میں مدد ملے اور وبا کے معاشی اور سماجی اثرات کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔

%d bloggers like this: