Official Web

چین یورپ اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک مذاکرات کا انعقاد

اٹھائیس ستمبر کو چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے برائے خارجہ اور سیکورٹی پالیسی جوزے بوریل کے ساتھ چین-یورپی یونین اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک مذاکرات کے گیارہویں دور کی مشترکہ صدارت کی۔ وانگ ای نے کہا کہ حالیہ عرصے میں ، چین اور یورپی یونین نے اپنے رابطوں اور مکالموں میں اضافہ کیا ہے اور بہت سے اہم اتفاق رائے حاصل کئے ہیں ، جس سے افہام و تفہیم اور باہمی اعتماد کو بڑھانے اور غلط فہمیوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ہمیں اس مثبت رجحان کو مستحکم کرنا ہوگا ، سیاسی باہمی اعتماد کو مضبوط بنانا ہوگا ، اختلافات سے نمٹنے کا صحیح انتظام کرنا ہوگا اور عالمی چیلنجوں کے جواب میں چین اور یورپ کا حصہ ڈالنا ہوگا۔

          بوریل نے کہا کہ یورپ چین کو ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتا ہے ۔یورپ اور چین کے درمیان تعلقات پختہ ، کثیر الجہتی اور غیر محاذ آرائی کے حامل ہیں۔یورپ اور چین کے مابین  قریبی اور ہموار رابطے کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔

       دونوں فریقوں نے انسانی حقوق کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وانگ ای نے کہا کہ چین دیگر ممالک کے ساتھ برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر انسانی حقوق کے حوالے سے بات چیت اور تعاون کرنے کو تیار ہے ، لیکن انسانی حقوق کے "اساتذہ” کو قبول نہیں کرتا اور انسانی حقوق کے بہانے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے . بوریل نے کہا کہ یورپی فریق چین کی خودمختاری کا احترام کرتا ہےاور اس سلسلے میں چین کو  سبق دینے یا سکھانے  کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

       وانگ ای نے تائیوان سے متعلقہ مسائل پر اپنا اصولی مؤ قف بیان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایک چین کا اصول عالمی برادری کا مسلمہ اتفاق رائے ہے اور یہ چین کے لیے یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی سیاسی بنیاد بھی ہے۔ بوریل نے کہا کہ یورپی یونین نے ہمیشہ ایک چین کی پالیسی پر عمل کیا ہے جو کہ یورپی یونین اور چین کے تعلقات کا ایک اہم سنگ بنیاد ہے اور یورپی یونین تائیوان  کے ساتھ سرکاری تبادلے نہیں کرے گی۔

%d bloggers like this: