Official Web

موٹاپا کم کرنے کےلیے ڈائٹنگ سے بہتر جسمانی مشقت ہے، تحقیق

ایریزونا: امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ موٹاپے کا شکار ہیں اور اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کےلیے باقاعدگی سے جسمانی مشقت اور ورزش جاری رکھنا، ڈائٹنگ کرنے سے کہیں بہتر ہے۔

یہ بات ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے گلین گیسر اور یونیورسٹی آف ورجینیا کے سدھارت انگڑی نے ریسرچ جرنل ’’آئی سائنس‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہی ہے۔
اس تجزیاتی رپورٹ (ریویو آرٹیکل) کی تیاری میں موٹاپے، امراضِ قلب اور سانس کی بیماریوں میں تعلق کے حوالے سے امریکا میں ہونے والی مختلف تحقیقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
تجزیئے سے معلوم ہوا کہ صرف ڈائٹنگ کا سہارا لے کر وزن کم کرنے کی کوششوں سے بہت اچھے نتائج نہیں ملتے جبکہ بظاہر موٹے دکھائی دینے والے لوگ جو باقاعدگی سے ورزش اور جسمانی مشقت کرتے ہیں، وہ اندرونی طور پر صحت مند ہوتے ہیں؛ جنہیں دل، شریانوں اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بھی خاصا کم ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ آج دنیا بھر کے طبّی ماہرین موٹاپے کے حوالے سے اختلاف رکھتے ہیں۔

ماہرین کا ایک طبقہ کہتا ہے کہ وزن کے حساب سے ’’موٹے‘‘ قرار پانے والوں کو دل اور سانس کی بیماریوں سے شدید خطرہ ہوتا ہے۔

اس کے برعکس، ماہرین کے دوسرے طبقے کا اصرار ہے کہ موٹا یا پتلا ہونا ہی سب کچھ نہیں بلکہ زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ کوئی شخص روزانہ کتنی جسمانی مشقت (مثلاً ورزش، چہل قدمی وغیرہ) کر رہا ہے۔

مطلب یہ کہ ’’نارمل‘‘ وزن والے آرام پسند افراد بھی امراضِ قلب و تنفس (دل اور سانس کی بیماریوں) کا شکار بن سکتے ہیں جبکہ روزانہ میلوں پیدل چلنے یا باقاعدگی سے معیاری ورزش کرنے والے ’’موٹے‘‘ لوگوں کےلیے بھی یہ خطرہ بہت کم ہوسکتا ہے۔

یہ تجزیہ بھی اسی تناظر میں کیا گیا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ وزن کم کرنے کےلیے جسمانی مشقت کرنے والے لوگ، صرف ڈائٹنگ کے ذریعے وزن گھٹانے کی کوششیں کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب رہتے ہیں۔

اس تجزیئے سے یہ تصدیق بھی ہوئی کہ جسمانی مشقت کی پابندی کرنے والے ’’بظاہر موٹے‘‘ لوگ اندرونی طور پر صحت مند ہوتے ہیں۔

اس تجزیئے کے بعد ماہرین نے زور دیا ہے کہ سب سے پہلے تو ہمیں ’’موٹاپے‘‘ اور اس سے وابستہ خدشات و خطرات کی بہتر وضاحت کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری جانب موٹاپا/ وزن کم کرنے کےلیے زیادہ توجہ ورزش، چہل قدمی اور دوسری طرح کی جسمانی مشقت پر ہونی چاہیے کیونکہ اس معاملے میں ڈائٹنگ کا کردار خاصا کم ہے۔

%d bloggers like this: