Official Web

جہاں چین کی سرمایہ کاری ہوگی اسے سی پیک والی سکیورٹی دیں گے: اسد عمر

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی وترقی اسد عمر کا کہنا ہےکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری  (سی پیک) منصوبہ ہمارے مشرق میں ہمسائے کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے، چین کے ساتھ دوستی سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ کئی چیلنجز کے باوجود پاکستان اور چین کی قیادت نے سی پیک کو جاری رکھا ہوا ہے،پاکستان کی واضح خارجہ پالیسی ہے، پہلے ہم نے خارجہ پالیسی میں وہ فیصلے کیے جس کی بھاری قیمت ادا کی، ہم دوسروں کی جنگ یا سرد جنگ میں حصہ دار بنے رہے۔

اسد عمرکا کہنا تھاکہ سی پیک منصوبوں کے لیے چینی ورکرز گزشتہ سال ہی واپس آگئے تھے ، پاکستان اور چین کی قیادت سی پیک کےلیے پرعزم ہے ،سی پیک کے آئی ٹی کا جوائنٹ ورکنگ گروپ بنانےکا فیصلہ کیا ہے، سی پیک کے پہلے مرحلےکی تکمیل دونوں ملکوں کے بڑھتے تعاون کی مظہر ہے ، سی پیک کے جنوبی زون سے پاکستان میں کثیر غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی ۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ داسو کا منصوبہ سی پیک کا منصوبہ نہیں ہے،  داسو اس سکیورٹی حصار کا حصہ نہیں جس میں سی پیک منصوبے آتے ہیں، چین کو سکیورٹی معاملات پر تحفظات ہیں، مگرکام شروع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین کے بجلی منصوبوں کو خصوصی طریقوں سے ڈیل کیا جائےگا، چین نےکہا ہے کہ مستقبل میں کوئلے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے، کوئلے سے بجلی پیدا کرنےکے پہلے کے منصوبے جاری رہیں گے،پاکستان میں آدھی سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری چین سے آتی ہے، چین کی سرمایہ کاری جہاں آرہی ہے اس پر سی پیک والی سکیورٹی دی جائے گی۔

وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ کورونا پر قابو پانے کے لیے چین کی حکومت نے پاکستان سے پھر پور تعاون کیا، چین کی مدد کرنے پر ان کے شکر گزار ہیں،زراعت کے شعبے میں بھی چین پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے ، کورونا کے باوجود کوشش کی گئی سی پیک منصوبوں پر کام جاری رہے۔

%d bloggers like this: