Official Web

امریکہ کو شکست

قاضی جاوید
دنیا بھر کے اخبارات اورجرائد براون یونیورسٹی کے کوسٹ آف وار پروجیکٹ کی تازہ تر ین رپورٹ سے بھرے پڑے ہیں رپورٹ بنانے کا مقصد یہ تھا افغانستان میں امریکا کی شکست کی وجوہات کا پتا لگایا جائے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے افغانستان میں لڑنے والی 60 فیصد امریکی افواج کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ وہ اپنے ملک سے ہزاروں میل دور جنگ کے عذاب میں کس لیے دھکیل دیے گئے ہیں اور وہ معصوم افغانوں کے دشمن بن کر ان کاقتل کیوں کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 11 ستمبر 2001 کے بعد فوجی خدمات سرانجام دینے والے 30177 فوجیوں نے خود کشی کی ہے اور وہاں جنگوں میں مرنے والے فوجی اہلکاروں کی تعداد صرف 7057 ہے۔ رائٹرزکے مطابق یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو رہا ہے اور امریکی کانگریس میں عرصہ دراز بعد صدر کے جنگ کرنے کے اختیارات کے خاتمے پر بحث بھی ہو رہی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں کروڑوں کے امریکی فوجیوں کو پھٹی شلوار ٹوٹی جوتی سے شکست؟کی بنیادی وجہ یہ ہے پھٹی شلوار قمیض ٹوٹی جوتی والے طالبان کو جہاد کا سبق یاد بھی تھا اوران میں اس کو عملی طور پر کرنے کا حوصلہ اور ہمت اور اللہ پر مکمل یقین بھی رکھتے تھے اور آج بھی ہے اور یہی سب کچھ براون یونیورسٹی کی اسی تحقیقی رپورٹ میں بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔
براون یونیورسٹی کی اس تحقیقی رپورٹ کا عنوان فوج میں خدمات سر انجام دینے والوں کو درپیش ذہنی، اخلاقی و جنسی بد اخلاقی ، فوج کے اندر طاقت کے استعمال کا کلچر، بندوقوں تک کھلی رسائی اور واپس عام شہری زندگی میں شامل ہونے میں درپیش مشکلات کی نشان دہی کرتی ہے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ریٹائرڈ فوجیوں میں خود کشی کی شرح عام شہریوں سے 1.5 گنا زیادہ ہے جب کہ نائن الیون کے بعد 18 سے 35 سال کی عمر کے فوجیوں میں تو یہ شرح عام شہریوں سے 2.5 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اعداد و شمار کا اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو وہ بھی عام شہریوں سے دگنی سے زائد ہے۔سابق فوجیوں میں خود کشی کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے بڑی سرمایہ کاری اور قانون سازی کی گئی لیکن تعداد میں پھر بھی کمی نہیں آئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2017 سے 2018 کے دوران 36 سابق فوجیوں نے خود اپنی جان لے لی۔
براون یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق قانون سازوں کو امید ہے کہ گزشتہ سال منظور کیے گئے نئے منصوبے جن کی توجہ نائن الیون کے بعد فوج میں خدمات انجام دینے والے اور دیہات میں مقیم اہلکاروں پر ہے، کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق امریکا میں ریٹائرڈ فوجیوں کی اکثریت نے نائن الیون کے بعد فوجی خدمات سرانجام نہیں دی ہیں لیکن جنہوں نے ان جنگوں میں حصہ لیا ہے ان میں خود کشی کی شرح 2005 سے 2017 کے دوران ہر ایک لاکھ میں 32.3 رہی ہے جب کہ 2018 میں 45.9 تک جا پہنچی ہے۔درج بالا اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ان جنگوں میں شرکت کرنے والے نفسیاتی و ذہنی مسائل کی زد میں ہیں۔
ادھر دوسری طرف امریکی آرمی چیف مارک ملی اور امریکا کے وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن کی جانب سے اعلانیہ شکست کے اعتراف کے بعد کہ افغانستان میں 50فیصد سے زیادہ علاقے طالبان کے قبضے میںہیں۔ امریکی آرمی چیف اور وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ ہماری سمجھ میں ہی نہیں آرہا ے کہ طالبان نے جنگ میںکون سی اسٹرٹیجک کے تحت اپنا قبضہ مضبوط بنا لیا ہے۔یاد رہے طا لبان نے 10 جولائی کو اعلان کر دیا تھا کہ وہ افغانستان کے 80فیصد علاقے پر اپنا قبضہ مکمل کر چکے ہیں اور اب تک ان کے قبضے میں 90فیصد حصہ آچکا ہے ۔ پینٹاگون نے کہا ہے کہ طالبان نے آدھے سے زیادہ افغانستان کے ضلعی مراکز پر قبضہ کرلیا ہے۔ طالبان صوبائی دارالحکومتوں پر مزید قبضے کے لیے کوشش کررہے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق طالبان تیزی سے افغانستان کے صوبائی دارلحکومتوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق افغان فورسز کی توجہ کابل کے دفاع اور اسٹرٹیجک علاقوں کو محفوظ رکھنے پر مرکوز ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں نے کہا ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے محدود جگہوں پر توجہ مرکوز کرنے سے افغان عوام میں یہ تاثر پیدا ہوگا کہ حکومت نے انہیں طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔افغان عہدے داروں کا کہنا ہے کہ نئی حکمت عملی فوجی ضرورت ہے کیونکہ افغان فوج صوبائی دارالحکومتوں کو کھونے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ امریکی عہدے داروں نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ افغان حکومت 6 مہینے سے بھی کم عرصے میں ختم ہوسکتی ہے۔ فوجیوں کی تعیناتی کی نئی حکمت عملی کابل کو اسٹرٹیجک علاقہ رکھنے اور اہم انفرااسٹرکچر کے دفاع میں مدد دے گی۔
دریں اثنا امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے کہا کہ امریکی فورسز کی نئی حکمت عملی کے تحت دارالحکومت کابل سمیت دیگر بڑی آبادی والے مراکز کی حفاظت شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر طالبان تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔مارک ملی نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا افغانستان میں طالبان کے مکمل قبضے کا امکان موجود ہے، لیکن نہیں معلوم ان کا انجام کیا ہوگا۔ رائٹرز کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کینیت مک کینزی جو افغانستان میں امریکی افواج کی نگرانی کرتے ہیں نے کہا تھا کہ افغانیوں کو پہلے سے معلوم تھا کہ انہیں اپنی لڑائی خود لڑنی ہے۔ امریکا اکیلاپورے افغانستان کا دفاع نہیں کرسکتا۔ امریکا اگر ہر جگہ دفاع کرے گا تو دفاع ناممکن ہوجائے گا۔میک کینزی نے طالبان کی پیش قدمی پر افغانستان کی وزارت دفاع نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔
لیکن اس پوری صورتحال کے باوجود پاکستان میں نجم سیٹھی جیسے سیکولر اور دیگر ان کے قبائل کے صحافی آج بھی یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر امریکا کو اڈے نہیں دیے گئے امریکا ماضی کی طرح بحیرہ عرب سے پاکستان پر کروز میزائل کی بر سات کر دے گا۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستانیوں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے براون یونیورسٹی کی رپورٹ پڑھ لیںجس میں لکھا ہے کہ امریکا نے افغان جنگ میں 2 سے 3 ہزار ارب نہیں 8 ارب ڈالرز سے زائد کے اخراجات کر دیے ہیں لیکن نتیجہ صفر نہیں منفی 100 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔ افغانستان میں ایک امریکی فوجی کے پاس ایک کروڑ 50ہزار سے زائد کے ہتھیا ر ہو تے ہیں جس میں 35سے 40لاکھ کی صرف گن ہو تی ہے۔ اس کے علاوہ حفاظتی کپڑے ،کیمرے لاکھوں روپے کی چپس ،دوربین اوردیگر آلات بھی ان کو دیے جاتے ہیںلیکن مقصد انسانوں پر ظلم تھا اور ان کا مقابلہ پھٹی ،میلی شلوار قمیض اور ٹوٹی چپل بے سرو سامانی کے عالم میں جہاد کے نشے میں چور افغانوں سے تھا ۔ براون یونیورسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کو جنگ اوراس میں مارے جانے کے مقصد کا علم نہیں تھا لیکن پھٹی ،میلی شلوار قمیض اور ٹوٹی چپل بے سرو سامانی کے عالم میں جہاد کے نشے میں چور افغانوں کو معلوم تھا کہ کامیاب ہو ئے تو غازی اور مرے تو شہید ہو کراللہ کی جنت میں داخلہ یقینی ہے۔

%d bloggers like this: