Official Web

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے دس سال بعد بھی امریکہ دہشت گردی کے شیطانی دائرے سے نہیں نکل پا رہا

امریکہ کے اسامہ بن لادن   کو ہلاک کیے دس سال  ہو چکے ہیںاور امریکی فوج نے  افغانستان سے اںخلا شروع کردیا ہے۔ حالہی میں چائنا میڈیا گروپ کے صحافی نے ایبٹ آباد کا دورہ کیا۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا تھا کہ افغانستان یا پاکستان میں کوئی امننہیں ہے۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ، بہت سارےمقامی لوگوں  نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 2011 میں  امریکہ کےاسامہ بن لادن کی ہلاکت کے اعلان سے  خطے میں سلامتی کیصورتحال میں بہتری نہیں آئی  اور یہ کہ امریکہ کے اس  وقت کےاقدامات صرف اپنے مفاد کے لئے تھے۔

پچھلی چند دہائیوں میں  ایسے  تمام ممالک  جن  میں امریکہ نےمداخلت کی ہے ، افغانستان ، لیبیا اور عراق سمیت سب  کوانتشار اور جنگی صورتحال کا سامنا  ہے۔

 افغانستان میں نظام تعلیم  درہم برہم ہوگیاہے ،نوجوان نسل تعلیم حاصل نہیں کررہی  اور وہ دہشت گردی سے متاثر ہورہیہے ۔

کچھ تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ اگر امریکی حکومت فوجی  حلپر زور دینے اور سفارت کاری کو نظرانداز کرنے کے دیرینہ انسداددہشت گردی کے عمل سے باز نہیں آتی  تو اس کیلئے   “دہشتگردیکے شیطانی دائرے سے فرارمشکل ہوگا۔