Official Web

ریشم اداکاری کے بعد شاعری میں بھی صلاحیتوں کے جوہردکھانے کے لئے کوشاں

لاہور: صدارتی ایوارڈ یافتہ ماڈل واداکارہ ریشم اداکاری کے بعد شاعری میں بھی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے لئے کوشاں ہیں۔

صدارتی ایوارڈ یافتہ ماڈل و اداکارہ ریشم اداکاری کے بعد شاعری میں بھی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے لئے کوشاں ہیں، وہ اب تک سینکڑوں شعر لکھ چکی ہیں اور مستقبل میں شاعری کی کتاب بھی چھپوانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اس حوالے سے اداکارہ ریشم کا کہنا ہے کہ شاعری سیکھی نہیں جاتی بلکہ انسان کے اندر کی آواز ہوتی ہے جب کسی شعر کی آمد ہوتی ہے تو وہ لمحہ بڑا خوبصورت ہوتا ہے اوراسے لفظوں کی صورت میں قید کر لیا جاتا ہے۔
ریشم کا کہنا ہے کہ میں کبھی کبھی شاعری کرتی ہوں البتہ اگر فرصت کے مواقع ملیں تو مکمل توجہ شاعری پردوں گی اورپھر ہوسکتا ہے کہ میں اپنی شاعری کی کوئی کتاب بھی مارکیٹ میں لے آؤں۔

انہوں نے کہا ہے کہ شاعری دلوں کی ترجمانی کرتی ہے اوریہ ضروری نہیں کہ شاعر صرف اپنے دل کی ترجمانی کرتا ہے بلکہ کئی بار وہ کسی اورکے دل کی ترجمانی بھی کرتا، بنیادی طور پر شاعری انسان کے اپنے جذبات کی عکاسی ہوتی ہے جس کو وہ اپنے لفظوں میں بیان۔ کرتا ہے۔

اداکارہ ریشم نے کہا کہ میں نے ملک کے نامورشعرا کے کلام کو پڑھا بھی ہے۔میری لائبریری میں فیض احمد فیض سے لے کر احمد فراز جیسے شعرا ء کی کتابیں موجود ہیں۔مجھے ناصرکاظمی، احمد فراز اور محسن نقوی نے بڑا متاثر کیا۔ انہوں نے کہاکہ علامہ اقبال کی شاعری میں فلسفہ ہے اس کو سمجھنے کیلئے انسان کو بڑی گہرائی میں جانا پڑتا ہے۔

ایک سوال پر ریشم نے کہا کہ پرائیڈ آف پرفارمنس ملنے پر بے حد خوش ہوں مجھے میری محنت کا پھل مل گیا ہے۔ میں اپنے پرستاروں کے محبت کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے ہمیشہ میرے کام کو سراہا ہے۔

یاد رہے کہ اداکارہ ریشم نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1995 میں فلم جیوا سے کیا تھا اور ان کی پہلی فلم ہی سپر ہٹ ہوئی تھی ۔ریشم کی دیگر مشہور فلموں میں چور مچائے شور، گھونگھٹ، سنگم، چورمچائے شور،دوپٹہ جل رہا ہے،پل دو پل، انتہا، پہلا پہلا پیار اور تڑپ شامل ہیں ریشم نے فلموں کے ساتھ ٹی وی ڈرامہ میں بھی فنکاری کے جوہر دکھائے۔