Official Web

عالمی برادری کی امریکہ میں نسلی امتیاز اور نسل پرستی کے واقعات پر تشویش

تیئیس فروری کو امریکی گرینڈ جیوری نے اعلان کیا کہپولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے ایک افریقی نژادامریکی شہری ڈینئل پرڈ واقعے میں پولیس کو فوجداریقانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔امریکی پولیسکی جانب سے قانون کی عمل داری کے دوران پرتشددرویوں کے تناظر میں یہ واقعہ گزشتہ برس وسیع  پیمانے پرتشویش کا باعث بنا تھا۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 46 ویں اجلاس میں عالمی ادارے کے متعدد خصوصی نمائندوں اور انسانی حقوق کے ماہرین نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پولیس تشدد روکنے کے لئے وسیع تر اصلاحات اپنائے اور معاشرے میں نسل پرستی اور نسلی امتیاز کے مسئلے پر قابو پائے۔

امریکی سیاست میں چونکہ سیاسی پولرائزیشن غالب آ چکی ہے لہذا ایسے سیاستدان جو صرف ووٹ کی پرواہ کرتے ہیں انہیں نسلی امتیاز کے مسئلے کو صحیح معنوں میں حل کرنے کی کوئی ترغیب نہیں ہے۔ امریکہ میں نسلی مساوات کے حوالے سے فعال کارکن رشارڈ رابنسن نے کہا کہ ملک میں نسلی امتیاز کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے باتوں کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔یہ امر افسوسناک ہے کہ امریکی سیاست دانوں نے “انسانی حقوق” کی آڑ میں دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں اعلانیہ مداخلت کی ہے۔