Official Web

چین کو انسانی حقوق کا درس دینے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں

چند مغربی ممالک نے اس بات کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے کہ جب وہ ترقی کے میدان  کسی ملک کا مقابلہ نہیں کر پاتے تو وہ نام نہاد بہانوں سے اس ملک کے داخلی امور میں مداخلت کے لئے کوشاں ہو جاتے ہیں تاکہ اس کی ترقی کا راستہ روکا جاسکے۔ ان بہانوں میں حقوق نسواں، جبری مشقت، یکساں حقوق کی فراہمی ،  اقلیتوں کے حقوق ، جمہوری حقوق، عدالتی نظر بندی، اقلیتوں کی نسل کشی اور بنیادی انسانی حقوق وغیرہ جیسے نعرےشامل ہیں۔  اپنے درپردہ مقاصد کے حصول کے لئےپہلے ان ممالک کے چند سیاستدان بیان بازی کرتے ہیں پھر ان کے ہاں کام کرنے والے میڈیا ادارے ان کے ہم رکاب بن جاتے ہیں اور یوں یہ مقامی لوگوں کے جذبات کا احترام کئے بغیر  اپنے راستے پر آگے بڑھتے رہتے ہیں۔

چین ایک ترقی پزیر ممالک ہے جو نہایت مختصر عرصے میں تیز رفتار ترقی کرتے ہوئے نہ صرف دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے بلکہ اس نے نہایت قلیل عرصے میں دس ملین سے زائد لوگوں کو غربت سے نکال کر بنی نوع انسان کی بڑی خدمت کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین نے سب سے پہلےوبا پر قابو پا کر بھی اپنے نظام کی خوبیوں کو ثابت کردیا ہے۔ یہ کامیابیاں ان طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ اسی وجہ سے کبھی  چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے ، کبھی چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے اور کبھی تبت کے امور کے بہانے چین کے داخلی معاملات میں مداخلت کی کوشش کی جاتی ہے۔

ان تمام تر منفی کوششوں کے باوجود چین کی ترقی کا سفر بھی جاری ہے اور چین کے تمام علاقے یکساں بنیادی انسانی حقوق سے بھی لطف اندوز ہورہے ہیں۔ آج چین کے تمام شہریوں کو پینے کا صاف پانی، رہنے کےلئے چھت، کھانے کے لئے متوازن غذا، علم حاصل کرنے کے لئے تعلیمی ادارے ، دنیا کی بہتری سفری سہولیات اور روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔

ایسے لوگ جو ایک مرتبہ چین آتے ہیں اور اس کی ترقی کا مشاہدہ کرتے ہیں خود ان نام نہاد الزامات کا منہ توڑ جواب دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں معروف فرانسیسی مصنف میکسم ویواس نے “ویغور قومیت سے متعلق جعلی خبریں ” کے نام سے ایک نئی کتاب شائع کی ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں کہا میں نے سنکیانگ میں  بہت سارے ویغور لوگوں  کو آزادی سے زندگی گزارتے دیکھا ، بہت سی مساجد بھی دیکھیں. اسکول میں ، میں نے ایک استاد کو چینی اور ویغور  زبان  کی تعلیم دیتے ہوئے دیکھا۔ میں نے باورچیوں کو حلال کھانا بناتے ہوئے دیکھا۔ جب کہ یورپ میں ویغوروں کی نسل کشی کی افواہیں پھیلی ہوئی ہیں، جو بے بنیاد ہے۔ اسی طرح حال ہی میں سنکیانگ میں “چینی کمیونسٹ پارٹی کی کہانی” کے عنوان سے ایک ویڈیو کانفرنس میں شریک  عراقی  کردستان کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری کاوا محمود  نے  کہا کہ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں مختلف ممالک کے اقدامات ایک جیسے نہیں ہیں، میرے خیال میں  سنکیانگ میں  اپنائے گئے متعلقہ  اقدامات سب سے زیادہ کامیاب ہیں۔ مغربی میڈیا رپورٹس میں سنکیانگ کے بارے میں سنسنی خیز دعوے خالصتاً  بدنیتی پر مبنی سیاسی تشہیر ہیں اور حقائق کے مکمل برعکس ہیں۔

اب کچھ نظر ان ممالک کی جانب بھی ڈالتے ہیں جو انسانی حقوق کے علمبردار بنے پھرتے ہیں۔ امریکہ میں جارج فلوائیڈ کی ” مجھے سانس لینے دو” کی پکار ہو، امریکی فوجیوں کے جنگی جرائم یا کووڈ-19 سے ہونے والی پانچ لاکھ سے زائد ہلاکتیں، اس حوالے سے امریکی سیاستداناپنے میڈیا کے سوالوں کا ہی جواب دے لیں تو بڑی بات ہے۔

برطانیہ میں انسانی حقوق پر روشنی ڈالتے ہوئے جنیوا میں چینی وفد کے ترجمان لیو یوئن اینگ نے کہا کہ برطانیہ میں لوگوں کی زندگی اور صحت کے حق کو نظرانداز کیا گیا ہے، ملک میں کووڈ۔19کے باعث 40 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد افراد اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ برطانیہ میں غربت بدستور ایک حل طلب مسئلہ ہے، برطانوی فوج عراق اور افغانستان جیسے مقامات پر بے گناہ افراد کی ہلاکتوں میں ملوث ہے، نسلی امتیازی سلوک اور نفرت انگیز اقدامات برطانیہ میں عام ہیں جبکہ تارکین وطن کے حقوق کی شدید خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان کے مطابق گزشتہ ساٹھ برسوں میں سنکیانگ  کے لوگوں کی اوسط  متوقع عمر30  سال سے بڑھ کر  ​​72 سال  ہو چکی ہے جبکہ  گزشتہ چالیس سالوں کے دوران سنکیانگ میں ویغور قومیت کی آبادی میں  دو گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ دو ہزار دس تا دو ہزار اٹھارہ  میں سنکیانگ میں ویغور قومیت کی آبادی میں پچیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو ہان  قومیت کی شرح اضافہ کے لحاظ سے   بارہ گنا زائد ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں ، 100 سے زائد ممالک کے 1،200 سے زیادہ سفارت کاروں ، صحافیوں اور مذہبی شخصیات نے سنکیانگ کا دورہ کیا ہے۔ چین سنکیانگ کے دورے کے لئے آنے والے مزید غیر ملکیوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ جو یہ غیرملکی دوست دیکھیں گے اور سنیں گے ، وہ ثابت کردے گا کہ مغربی میڈیا کی طرف سے سنکیانگ کے حوالے سے  جعلی خبریں خود کو دھوکہ دینے والے لطیفے کے سوا کچھ نہیں ہیں۔