Official Web

گھونگھے کے زہر سے بگڑے ہوئے ملیریا کے علاج میں پیشرفت

فلوریڈا: پلازموڈیئم فلکیپرم سے پھیلنے والا ملیریا بہت شدید اور جان لیوا ہوتا ہے۔ اس طرح کے مرض کے لیے اب ایک سمندری گھونگھیکے زہر پر تحقیق سے اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنیآئے ہیں۔
بعض ملیریا طفیلیوں (پیراسائٹس) مارنے والی دواں سے بھی ٹھیک نہیں ہوتے۔ ہر سال شدید ملیریا 50 کروڑ لوگوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور چار لاکھ افراد کی جان لیتا ہے۔سمندروں میں عام پائے جانے والے ایک گھونگھے کونس نکس کے زہر کو ملیریا کے علاج کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی کے شمٹ کالج اور دیگر اداروں نے کہا ہے کہ سمندری گھونگھوں کے زہر سے ملیریا کا علاج کیا جاسکتا ہے۔یہ زہر اینٹی ایڈھیسن یا بلاک ایڈ تھراپی کے خواص رکھتا ہے اور اس کی بنا پر ملیریا کے خلاف مثر ادویہ بنائی جاسکتی ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج جرنل آف پروٹیومکس میں شائع ہوئے ہیں۔ سمندری گھونگھے کا زہر ملیریا کی وجہ بننے والے پروٹین اور پروٹین پولی سیکرائیڈز عمل کو توڑتا ہے۔ اس طرح ملیریا کے زور کو کم کیا جاسکتا ہے۔طب کی زبان میں سمندری گھونگھوں کا زہر کونوٹوکسن کہلاتا ہے۔ لیکن توقع ہے کہ ان سے ایڈز اور کووڈ 19 جیسے امراض کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح بلاک ایج تھراپی پر عمل کرتے ہوئے ان سے دوسری بیماریوں کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے۔تحقیق کے سربراہ پروفیسر اینڈریو اولینیکوف کہتے ہیں کہ گھونگھے کے زہر سالماتی طور پر مستحکم، مختصر، حل پذیر ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں رگ میں لگائے جانے والے انجیکشن کے ذریعے بدن میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ توقع ہیکہ سمندر کے اس جانور سے انسانوں کے علاج اور بقا کی ایک نئی راہ ہموار ہوگی۔