Official Web

وادی گلوان سے متعلق خبروں کی اشاعت کے بارے میں چینی وزارت خارجہ کا اظہار خیال

انیس تاریخ کو چین کی وزارت خارجہ کی رسمی پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے پوچھاکہ آج کے “لبریشن آرمی ڈیلی” نے ایک جامع رپورٹ شائع کی ہے جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ گزشتہ برس جون میں چین اور بھارت کے مابین سرحدی تنازعہ میں چار چینی فوجی شہید ہوگئے تھے اور ایک فوجی اہلکار شدید زخمی ہواتھا۔ اب متعلقہ خبروں کو عام کرنے پر چین کی کیارائے ہے؟

 وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چھون اینگ نے کہا کہ وادی گلوان میں تنازعہ گزشتہ سال جون میں پیش آیا تھا ، اس واقعے کی ذمہ داری چین پر عائد نہیں ہوتی، اس واقعے سے جانی نقصانات بھی ہوئے۔ دونوں ممالک اور دونوں فوجوں کے مابین تعلقات کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے ، چین نے بڑی حد تک صبروتحمل کامظاہرہ کیا ہے۔تاہم  بھارت نے بار بار  حقائق کو مسخ کیا اور بین الاقوامی رائے عامہ کو گمراہ کیا۔ اب “لبریشن آرمی ڈیلی”نے  متعلقہ رپورٹس شائع کی ہیں اور حقائق کا اعلان کیا ہے۔  اس سے لوگوں کو  واقعے کی حقیقت اور سچائی کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ یہ ملک کا دفاع کرنے والے ہیروز اور شہداء کا احترام  بھی ہے۔

ہوا چھون اینگ نے اس بات پر زور دیا کہ سرحدی امور کو حل کرنے کے بارے میں چین کا موقف ہمیشہ سے مستقل ہے ، اور ہم ہمیشہ سرحدی علاقے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لئے بات چیت کے ذریعے تنازعات کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ  سرحدی مسئلے کو مناسب پوزیشن پر رکھا جائے گا  اور ہم سرحدی علاقے میں امن و سکون برقرار رکھنے اور باہمی تعلقات کی طویل مدتی ، صحت مند اور مستحکم ترقی کو فروغ دینے کے لئے مل کر کام کریں گے۔ اور یہی دو ممالک کے عوام کے مشترکہ مفادات میں ہے۔