Official Web

مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسی امن کے لیے خطرہ ہے , شاہ محمود قریشی

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ بھارت بحرہند میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاوأ کا باعث ہی، مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسی خطے میں امن کے لیے خطرہ ہے – ،عالمی برادری کو حقیقت کو محسوس کرنا ہوگا جنوبی ایشیاء میں کسی قسم (باقی صفحہ7بقیہ نمبر69) کا فوجی تنازعہ خطے کو عدم استحکام سے دوچار کردیگا جس سے عالمی تجارت اور سلامتی کو گزند پہنچنے کا احتمال ہو سکتا ہے – بلواکانومی ایک نیا نظریہ ہے جو مستقبل میں معیشت مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو گی – پاک بحریہ پاکستان کے ساحل اور علاقائی سمندروں میں سلامتی کو درپیش خطرات سے موثر انداز میں نمٹ رہی ہے جس پر فخر ہے ،سی پیک اور گوادر بندرگاہ کی ترقی گیم چینجر منصوبے ہیں جن سے پاکستان کی جیو اکنامک اہمیت مزید بڑھ گئی ہی،مینگرووز پر انحصار کرنے والی صنعت سالانہ 20 ملین ڈالر کے قریب ثمرآور ہوسکتی ہے – ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کراچی میں بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا – ا نہوں نے کہا کہ میں پاک بحریہ کو مبارک دیتا ہوں کہ 2007 سے ہر دوسال کی ترتیب سے وہ ’امن‘ کے نام سے کثیرالملکی مشقوں کی مسلسل میزبانی کا اعزاز حاصل کررہی ہی،مجھے یاد ہے کہ پاکستان بحریہ نے یہ کاوش بحرہند کے خطے میں امن و ہم آہنگی کے فروغ کے لئے شروع کی تھی، بحری جہازوں ، طیاروں ، خصوصی سپیشل آپریشن فورسز، میرین ٹیمز اور مبصرین کے ساتھ بڑی تعداد میں غیرملکی بحریہ اس میں شریک ہی،مجھے اس امر پر مسرت ہے کہ 2007 کے مقابلے میں ان بحری مشقوں میں حصہ لینے والے ممالک کی بحریہ کی تعداد 28 سے بڑھ کر اس سال 40 سے زائد تک پہنچ چکی ہے – ان مشقوں کا کامیاب انعقاد عالمی امن وسلامتی کے فروغ کے لئے پاکستان کے عہد اور کاوشوں کا مظہر ہے – انہوں نے کہاکہ میں بحریہ کے سربراہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے یہاں مدعو کیا اور ’’محفوظ اور پائیدار ماحول میں نیلے پانیوں سے معاشی ترقی – مغربی ہند کے بحری خطے کے لئے مشترک سوچ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس عالمی میری ٹائم کانفرنس 2021 میں اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا – بلاشبہ یہ ابھرتا ہوا ایک انتہائی اہم پہلو ہے جس کی پاکستان کے لئے انتہائی زیادہ اہمیت ہے – انہوں نے کہاکہ نیلے پانیوں کی معیشت‘ نسبتاً ایک نیا تصور ہی، یہ سمندروں اور بحیروں کی سماجی ومعاشی ترقی میں کارگر ہونے کی اہمیت سے روشناس کراتا ہے – یہ ایک وسیع تصور ہے جس میں کئی پہلو جمع ہیں ، اس میں قابل تجدید توانائی، ماہی گیری، ساحلی سیاحت، فضلے کو ٹھکانے لگانی، بحری نقل و حمل، سمندری انجینئرنگ اور ماحولیاتی تغیر تک کے تمام شعبے سموئے ہوئے ہیں – انہوں نے کہاکہ پائیدار بلیو اکانومی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے فائدے پر مبنی سماجی ومعاشی ثمرات کے حصول کے لئے کلیدی اہمیت رکھتی ہے