Official Web

امریکی میڈیا کے چین کی جانب سےوائرس کی تحقیق میں عدم تعاون کے بیانات بے بنیاد ہیں، ماہرین عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نیویارک ٹائمز کے اس مضمون کو مسترد کردیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کی ٹیم کی جانب سے کووڈ-19 کے وائرس کا ماخذ جاننے کے لئے کئے جانے والے دورہ چین کے دوران چینی سائنسدانوں نے اہم اعداد وشمار دینے سےا نکار کر دیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کے مشن کے سربراہ پیٹر بین ایمبارک نے کہا کہ بین الاقوامی ٹیم کا دورہ چین “کئی حوالوں سے کامیاب رہا” ، اس دوران ماہرین کو  وائرس کے حوالے سے بہت سی نئی معلومات حاصل ہوئیں۔ وائرس کے پھیلاؤ کے طریقہ کار کے حوالے سے تفہیم میں اضافہ ہوا۔وائرس، وائرس کی ساخت ، اور وائرس کے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کے حوالے سے علم بڑھا۔ پیٹر بین ایمبارک نے اعادہ کیا کہ مذکورہ وائرس ووہان کی کسی بھی لیب میں موجود نہیں تھا ، اور پھیلنے سے پہلے کوئی بھی وائرس کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایدہانوم گیبریسس نے کہا  ہے کہ مشن کے نتائج کی ایک سمری رپورٹ اگلے ہفتے کے اوائل میں سامنے آسکتی ہے اور اس کے بعد “آنے والے ہفتوں میں ایک حتمی رپورٹ” سامنے آسکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے ایک بار پھر نشاندہی کی کہ یہ مشن اپنے تمام سوالات کا جواب تلاش نہیں کرسکا لیکن تحقیقات کے دوران جو معلومات سامنے آئیں ہیں وہ “لوگوں کو وائرس کی حقیقت کو سمجھنے کے قریب تر لے جاتی ہیں۔