Official Web

امریکی انٹیلی جنس پر انحصار نہ کریں،ڈبلیو ایچ او کے ماہرین ٹیم کے ارکان کی رائے

امریکی وزارت خارجہ نے حال ہی میں نوول کوروناوائرس کے ماخذ کا سراغ لگانے سے متعلق چین-ڈبلیو ایچ او جوائنٹ ایکسپرٹ گروپ کی ٹریس ایبلٹی رپورٹ کی شفافیت کے بارے میں اپنے نام نہاد “شکوک” کا اظہار کیا۔   چین کا دورہ کرنے والی ڈبلیو ایچ او کی ماہر  ٹیم کے ایک رکن  پیٹرڈاس زاک نے ٹویٹر پرکہا کہ  “براہ کرم امریکی انٹیلی جنس پر زیادہانحصار نہ کریں جو  ٹرمپ کی قیادت میں رہ کر ،حقیقتسے بہت دور جا چکی ہے۔ سچ کہا جائے تو ، یہ بہت سے طریقوں سے غلط ہے۔

نو فروری کو ، نوول کوروناوائرس کے ماخذ کا سراغ لگانے سے متعلق چین-ڈبلیو ایچ او جوائنٹ ایکسپرٹ گروپ نے ایکپریس کانفرنس منعقد کی۔ اس پریس کانفرنس میں ، ڈبلیو ایچاو کی ٹیم کے سربراہ ، پیٹر بین ایمبارک نے کہا کہ اس بات کا قطعاً امکان نہیں ہے کہ وائرس ووہان لیبارٹری سے نکلا ہو اورآئندہ اس حوالے سے مطالعہ نہیں کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ، رائٹرز کے مطابق ، بائیڈن انتظامیہ ڈبلیو ایچ او کی طرف سے جاری کردہ اس رپورٹ کا نام نہاد “آزاد تجزیہ” کرے گی ۔وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری جین ساکینے نو تاریخ کو کہا کہ امریکی حکومت نے ڈبلیو ایچ او کی مذکورہ تحقیق  میں حصہ نہیں لیا  ، لیکن امریکی حکومت  ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں پیش کئے جانے والے تجزیے اور اعداد و شمار کا بغور جائزہ لینے کا خواہش مند ہے۔