Official Web

سائنسی رویہ وائرس کے ماخذ کا سراغ لگانے کی کلید ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ہیلتھ ایمرجنسی پروجیکٹ کی تکنیکی رہنما ماریہ ونکرخوو نے 5 تاریخ کو بتایا کہ متعدد ملکوں کی تحقیقی ٹیموں  نے دسمبر 2019 سے قبل پائے جانے والے انسانی اور ماحولیاتی نمونوں میں نوول کورونا وائرس دریافتکیا   ہے ، ڈبلیو ایچ او  اس دریافت کے حوالے سے متعلقہ فریقوں کے ساتھ قریبی تعاون اور  رابطے میں ہے تاکہوائرس کے ماخذ کا صحیح سراغ لگایا جا سکے۔

حال ہی میں ، چین اور ڈبلیو ایچ او   کی تحقیقی ٹیم نےوائرس کا سراغ لگانے کے سلسلےمیں چین کے شہر  ووہانکا دورہ کیا ہے ، اس دوران چینی اور  غیر ملکی ماہرین نےمتعلقہ تحقیقی  امور پر سائنسی ، پیشہ ورانہ اور معقولانداز میں  تبادلہ  خیا ل کیا ۔ تاہم ، جیسا کہ ڈبلیو ایچ او کیصحت کے ہنگامی منصوبے کے سربراہ مائیکل ریان نے کہا، وائرس کےماخذ  کا سراغ لگانا  ایک بہت بڑےپزلکیطرح ہے ، اور ووہان میں ماہر ٹیم کا کام صرف اس پزل کے  چند چھوٹے ٹکڑوں میں سے ایک  ہے۔ ووہان کےعلاوہ ، ڈبلیو ایچ او کی ماہر ٹیم کو دنیا کے دیگر حصوں میںبھی کام کرنا چاہیے  جہاں ابتدائی وائرس موجود  ہونے کاامکان ہو ، تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کا ایک جامع ، اور سائنسینقشہ کھینچا جا سکے۔

تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ بہت سی وباوں کی پہلی  دریافت کامقام  اس کے ماخذ کا مقام نہیں ہوتا۔ وبا کی ایک بڑیخصوصیت یہ ہے کہ اسے  کسی قوم یا ملک تک  محدود نہیںکیا جاسکتا ، اور اس کا سرا تلاش کرنا مشکل  ہوتاہے ۔سب سے سائنسی طریقہ یہ ہے کہ وائرس کے ماخذ سے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھی کی جائیں تاکہ وائرس کے ماخذ کومعلوم کرنے  کے بارے میں  درست انتظامہوسکے۔اس بارے میں بے بنیاد دعوے کرنا ، مخصوصملکوں کو نشانہ بنانا اور بدنام کرنا نامعقول رویہ ہے۔

حالیہ عرصے  کے دوران ، ڈبلیو ایچ او نے وائرس کے ماخذکو تلاش کرنے کے بارے میں بار ہا مثبت رائے کا اظہار کیا ہے۔ مائیکل ریان نے واضح طور پر کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او  اپنے کسی بھی ممبر  ملک اور خطے کی درخواست پر  وہاں جاکر متعلقہ تحقیقی کام کرنے  کیلئے  تیار ہے۔ وائرس کاسراغ لگانا ایک پیچیدہ سائنسی مسئلہ ہے جس میں بہت سے ممالک اور مقامات شامل ہیں اور عالمی سائنس دانوں کے تعاون سے اس کام کو انجام دیا جا سکتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بتایا ہے کہ وائرس کے ماخذ کا سراغ لگانے کے لئے  کسی مقررہ  نتیجے پر پہنچنے کے لئے  کوئی مخصوصثبوت تلاش کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے ۔ وائرس کا سراغ لگانے کے لئے صحیح نقطہ نظر یہ ہے کہ تمام شواہد اور سراغوں  کو منصفانہ انداز میں دیکھا جائے ، درستمطالعے کے لئے وائرس کی نشاندہی کے بارے میں تمامقیاس آرائیوں کا جائزہ لیا جائے اور سائنسی انداز میں زیادہسے زیادہ ممالک اور خطوں میں تحقیقات کی جائیں۔

صرف سائنس کی پیروی کرنے سے ہی وائرس کو شکست دی جاسکتی ہے ، اور بین الاقوامی برادری کا اتحاد آخر کار اس وبا کو شکست دے سکتا ہے۔ وبا  پھیلنے کے بعد سے ،چین نے ہمیشہ کھلا اور شفاف رویہ اپنایا ہے اور وائرس کاسراغ لگانے سے متعلق ڈبلیو ایچ او کے ساتھ قریبی رابطے اور تعاون کو برقرار رکھا ہے ۔ اس خوفناک وائرس کے خاتمے اور اس کی ابتدا کے بارے میں سچائی تک پہنچنے کے لئے  ، دنیا کے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا چاہئے اوراس کا سراغ لگانے کے معاملے پر مثبت اور سائنسی تعاونکرنا چاہئے ۔