Official Web

سنکیانگ میں تمام نسلی گروہوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت اور آزادی حاصل ہے

چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کی حکومت  نے 20 تاریخ کو سنکیانگ کے امور سے متعلق ایک پریس کانفرنسمنعقد کی۔ سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کی حکومت کے پریسآفس کے ترجمان ، ایلیجان عنایتی نے پریس کانفرنس میں کہا کہسنکیانگ کے مذہبی امور کے بارے میں سابق امریکی وزیر خارجہمائیک پومپیو کے بے بنیاد بیانات کا مقصد سنکیانگ میں مختلفقومیتوں کے عوام کے درمیان تعلقات کو بگاڑنا ہے۔درحقیقت،سنکیانگ میں تمام نسلی گروہوں کے لوگوں کے مذہبی عقیدے کی آزادی کا بھر پور احترام اور حفاظت کی جاتی ہے۔
ایلیجان عنایتی  نے کہا کہ چینی آئین میں یہ دفعات درج ہیں کہشہریوں کو مذہبی عقیدے کی آزادی حاصل ہے ،کوئی بھی سرکاریایجنسی ، سماجی تنظیم یا فرد شہریوں کو مذہب  اختیار کرنے یا نہکرنے پر مجبور نہیں کرسکتا ، مذہبی عقیدہ رکھنے والے یا نہ رکھنےوالے  شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاسکتا. چینیحکومت عام مذہبی سرگرمیوں کی حفاظت کرتی ہے۔
ایلیجان عنایتی نے اس طرف اشارہ کیا کہ سنکیانگ میں ، تمامنسلی گروہوں کے مسلمان معمول کی مذہبی سرگرمیاں کرتے ہیں ،مساجد اور اپنے گھروں میں اپنی  مرضی  کے مطابق  اسلامیتعطیلات منا تے ہیں ، عبادت ، نماز ، تبلیغ ، روزہ  اور  دوسریدینی سرگرمیوں کو مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے اور کبھی کسی نےمداخلت نہیں کی ہے۔ اس سلسلے میں مارچ 2019 میں ، اسلامیتعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل نے بھی ایک قراردادمنظور  کی تھی ، جس میں مسلمانوں کی دیکھ بھال کے لئے چین کیکوششوں کی تعریف کی گئی ہے۔