Official Web

آئی جی خیبر پختونخواہ کا مانسہرہ کا دورہ پولیس کے افسران کی میٹنگ کی صدارت

مانسہرہ (بیورورپورٹ)انسپکٹر جنرل آف خیبر پختونخواہ پولیس ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی کا دورہ مانسہرہ – ڈی پی او آفس میں مانسہرہ پولیس کے افسران کے اعلی سطحی میٹنگ کی صدارت کی – تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف خیبر پختونخواہ پولیس نے گزشتہ روز ضلع مانسہرہ کا دورہ کیا – دورے کے دوران انھوں نے ناجائز تجاوزات کے خلاف MNJCروڈ پر جاری آپریشن کا معائنہ کیا – اور اس سلسلے میں پولیس کی کاوش اور کامیاب آپریشن کو سراہا اور مبارک باد دی – بعد ازاں صوبائی سربراہ پولیس نے شوگراں کا دورہ کیااور پولیس چوکی شوگراں میں تعینات پولیس افسران اور جوانوں سے ملاقات کی – اور سیاحوں کو دی جانے والی پولیس خدمات اور سروسز کو سراہا – شوگراں میں سیر وتفریح کی عرض سے آئے ہوئے سیاحوں نے آئی جی خیبر پختونخواہ پولیس سے ملاقات کی اور مانسہرہ پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے آگاہ کیا – آئی جی پی نے پولیس افسران اور جوانوں کو ہدایت کی کہ اسی جذبے اور جانفشانی کے ساتھ سیاحت کے فروغ کے لیئے اپنی پیشہ وارانہ خدمات سرانجام دیتے رہیں – آئی جی کے پی پولیس نے پولیس چوکی شوگراں کی مذیدآرائش اور اپ گریڈیشن کے لیئے ڈی پی او مانسہرہ کو احکامات بھی جاری کیئے – بعدازاں انسپکٹر جنرل آف خیبرپختونخواہ پولیس ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے ڈی پی او آفس مانسہرہ میں اعلی سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں ڈی پی او مانسہرہ، ایس پی انوسٹی گیشن مانسہرہ، ایڈیشنل ایس پی مانسہرہ، ایس پی سپیشل برانچ، ایس پی سی ٹی ڈی ہزارہ،ضلع مانسہرہ کے ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز نے شرکت کی – ڈی پی او مانسہرہ صادق بلوچ نے سال 2020کے مقدمات کی بریفنگ دی – انسپکٹر جنرل آف خیبرپختونخواہ پولیس ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے میٹنگ کے دوران پولیس افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو جانی و مالی تحفظ فراہم کرنا،جرائم کا خاتمہ اور امن و امان کا قیام خیبر پختونخواہ پولیس کی اولین ترجیع ہے – مانسہرہ پولیس کو امن و امان کی صورت حال کو خرب کرنیوالے عناصر کے خلاف بلاتفریق کاروائیوں کو عمل میں لائے – عوام دوست پولیس کو فروغ دینے کے لیئے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں – قتل،اقدام قتل،چورہی و ڈکیتی اور دیگر مقدمات میں مطلوب اشہاری ملزمان کے خلاف کاروائیوں کو مزید تیز کیا جائے اور انکی گرفتاریوں کے لیئے خصوصی مہم کا آغاز کیا جائے – منشیات کا کاروبار کرنے والے عناصر اور گروہوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے – چو