Official Web

چین -آسیان ایکسپو چین کے کھلے پن کے عزم کا مظہر

آسیان ایکسپو تیس تاریخ کو اختتام پزیر ہوئی ۔ اس دوران آن لائن اور  آف لائن ایک سو پچاس سے زیادہ  تجارتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ۔ اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری تعاون کے چھیاسی منصوبے طے پا گئے اور دستخط شدہ  منصوبوں کے کل مالی حجم نے ایک نیا ریکارڈ  قائم کیا ۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چین – آسیان ایکسپو  نے باہمی تعلقات اور اقتصادی و تجارتی شعبے میں تبادلوں اور تعاون کو  فروغ دیاہے ۔  اور یہ چین  اور آسیان کے درمیان مزید ہم نصیب معاشرے کے قیام کا  مظہر ہے ۔

شیڈول کے مطابق  موجودہ ایکسپو کے انعقاد سے  ظاہر ہوتا ہے کہ چین نے وبا کو مؤثر طریقے سے روک کراس پر قابو پالیا ہے ، اور چین کے اس عزم کا بھی اظہارہوا ہے کہ وہ اعلی سطح کی کھلی پالیسی  پر عمل پیرا ہے اور چین-آسیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ۔

ایکسپو کی افتتاحی تقریب سے چینی صدر مملکت شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ چین آسیان کو ہمسایہ سفارتکاری کے لئے ترجیحی سمت اور “دی بیلٹ اینڈ روڈ” کی مشترکہ تعمیر کے لئے ایک اعلی معیار والے کلیدی علاقے کے طور پر دیکھتا ہے ، آسیان یکجہتی  کی تعمیر کی حمایت کرتا ہے ، مشرقی ایشیائی تعاون میں آسیان کے مرکزی مقام کی حمایت کرتا ہے ، کھلے پن اور  اشتراک پر مبنی  علاقائی ڈھانچے کی تعمیر میں آسیان کے زیادہ کردار کی حمایت کرتا ہے ۔ اس موقع پر انہوں نے مستقبل میں چین آسیان تعاون کے حوالے سے چار نکاتی تجاویز بھی پیش کیں ۔

رواں سال خدمات کی ایکسپو ، درآمدی ایکسپو اور آسیان کے ساتھ ایکسپو کے انعقاد سے  چین نے کھلے پن کو توسیع  دینے کے اپنے اٹل عزم کا مظاہرہ کیا ہے ۔