Official Web

اعلیٰ ترین سائنسدانوں کے تیسرے عالمی فورم سے چینی صدر کا ویڈیو خطاب

تیس اکتوبر کو شنگھائی میں اعلیٰ ترین سائنسدانوں کے تیسرے عالمی فورم کا انعقاد ہوا۔چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے فورم سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ-۱۹ کی وبا پھوٹنے کے بعد مختلف ممالک کے سائنسدان انسداد وبا کے لیے  بھر پور کوششوں کررہے ہیں اور علاج، دوا ،ویکسین کی تحقیق و تیاری اور وبا کی روک تھام و کنٹرول سمیت متعدد اہم شعبوں میں کام کرتے ہوئے  بین الاقوامی تعاون بھی کررہےہیں۔یہ لوگ  انسداد وبا کے لیے اہم ترینخدمات سرانجام دے رہے ہیں۔موجودہصورتحال کے تناظر میں کورونا وائرس کے خلاف دوا، ویکسین اور ٹیسٹ پرتحقیق کے لیے تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اورانسانی صحت سمیت مشترکہ امور پر توجہ دیتے ہوئے ٹیکنالوجی سے بہتر استفادہ کیا جانا چاہیے۔
شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین ٹیکنالوجی کی جدت کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور جدت کو ترقی کی  قوتِ محرکہ مانتا ہے ۔ چینکھلےپن، وسعت اور مشترکہ مفادات اور اشتراک کے بین الاقوامی ٹیکنالوجی تعاون کی حکمت عملی پر عمل درآمد کرے گا ، دنیا کے اعلیٰ ترین سائنسدانوں اور عالمی ٹیکنالوجی تنظیموں کے ساتھ مل کر تعاون کو فروغ دینے کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سائنسدان مثبت  تبادلہخیال کریں گے، تعاون کو آگے بڑھائیں گے اورمشترکہ طور پر عالمی سائنس کو فروغ دیں گے۔
موجودہ فورم کا موضوع ہے “سائنس وٹیکنالوجی، بنی نوع انسان کی مشترکہ منزل کے لیے “۔فورم بیک وقت  آن لائن اور آف لائن منعقدہورہا ہے۔ ۶۱ نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں سمیت تین سو سے زائد سائنسدان فورم میں شریک ہیں۔