Official Web

پیک پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہ

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو دیئے گئے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے سوال پوچھا گیا کہ ، پاکستانی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ  پاکستان کا معاشی مستقبل چین کے ساتھ وابستہ ہے اور موجودہ  دور پاک چین تعلقات کا بہترین دور ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اقتصادی راہداری میں مشترکہ تعاون کی شرائط پر دوبارہ سے بات چیت کرنے سے متعلق افواہیں بھی گردش کر رہی  ہیں، اس بارے میں چین کا کیا موقف ہے ۔ اس سوال کے جواب میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاولی جیان نے کہا کہ  پاکستانی وزیر اعظم کا بیان بے حد مثبت ہے اور چین اس کی تعریف کرتا ہے ۔چین اور پاکستان  ہمیشہ ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ “دی بیلٹ اینڈ روڈ” کے ایک اہم پائلٹ منصوبے اور چین پاکستان تعاون کے ثبوت کے طور پر ،چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر نے عملی طور پر مثبت نتائج حاصل کیے ہیں ۔ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے ساتھ نئی پیشرفت کو فروغ دینے ، نئے دور میں چین پاکستان  ایک ہم نصیب معاشرے کی تعمیر اور اس کے فروغ کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے لیے پر عزم ہیں ۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں پاکستان  اور چین  کی دوستی دنیا بھر میں ہمسائیہ ممالک کے برادرانہ تعلقات کی زریں مثال ہے  اور وقت کی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے۔ اسی لیے چین نے اپنے برادر ملک کے ساتھ چین پاک اقتصادی راہداری یعنی سی پیک جیسا مثالی منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبے سے ناصرف یہ دونوں ممالک بلکہ خطے کے دوسرے ممالک بھی فیض یاب ہوتے ہیں۔ تاہم کچھ ممالک کو اس منصوبے سے اپنی بالا دستی خطرے میں پڑتی محسوس ہوتی ہے اور اسی لیے وہ آئے روز کوئی نہ کوئی ایسی افواہ پھیلاتے ہیں کہ جس کے باعث لوگوں کے اذہان میں شکوک جنم لیں اور اس منصوبے  کی رفتار سست پڑے ۔لیکن اس  حوالے سے چین اور پاکستان کا ایک دوسرے پر مکمل اعتماد ہے اور اس بڑھتے ہوئے اعتماد کی وجہ وہ زمینی حقائق ہیں جو تعصب کی عینک لگانے سے نظر نہیں آتے ہیں ۔

اس منصوبے پر کام کی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے مرحلے میں گوادر کی بندرگاہ فعال ہو چکی ہے اور معاشی و تجارتی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے ، اس کے علاوہ پہلے مرحلے کے بڑے منصوبوں میں توانائی کے منصوبے اور ذرائع آمدورفت کے لیے موٹر ویز اور سڑکوں کے منصوبے تیزی سے مکمل ہو رہے ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کے دیہی  علاقے اور دوردراز کے پہاڑی علاقے شہروں کے ساتھ منسلک ہو گئے ہیں ۔ اور اب جب دوسرے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے  تو اقتصادی زونز کی تعمیر اور زرعی شعبے میں تعاون دونوں ممالک کی اولین ترجیح ہے ۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور جدید آلات و ٹیکنالوجی میں چین اس کی معاونت کرتا ہے تو اس کا فائدہ ناصرف پاکستانی عوام ،اس کے کسانوں اور معیشت کو ہوتا ہے بلکہ تکنیکی سہولیات کی فراہمی چین کے لیے بھی سود مند ہے ۔اقتصادی زونز کا قیام کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ اس حوالے سے چین کے تجربات مثالی ہیں ، شن زن کی ترقی ہو یا آج ہائی نان اقتصادی زون کی غیر معمولی عالمی پذیرائی  اور اس کے ساتھ ان علاقوں کے لوگوں کی کایا پلٹ نے دنیا کو حیران بھی کیا ہے اور متاثر بھی ۔ کیونکہ اقتصادی زون پورے علاقے کی حالت تبدیل کر دیتی ہے اور چین جس قدر بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ مرحلہ وار اس کو تعمیر کرتا ہے وہ قابل تقلید ہے ۔ یہی وہ دور رس نتائج کی حامل  منصوبہ بندی ہے  جس کے باعث چین غربت کے خاتمے میں کامیاب ہوا ہے ۔ پاکستان کے ساتھ اب اس دوسرے مرحلے میں اقتصادی زونز کا قیام اس علاقے کے لوگوں کے لیے خوشحالی اور بہترین طرز زندگی  کا ضامن ہے  جس کا عملی ثبوت خود چین اپنے یہاں دے چکاہے ۔ چین نے اپنے کامیاب تجربات کو پاکستان کے وسائل اور اس کی افرادی و معاشی قوت کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے اپنے برادر ملک کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ ترقی کے اس سفر میں اس کے ہم قدم ہو اور ایک بہترین اور خوشحال معاشرہ صرف چین کا ہی نہیں پاکستانی عوام کا بھی مستقبل ہو۔

چین پاک اقتصادی راہداری ، ترقی کے سفر کا وہ خواب ہے جس کی تعبیر کا حصول  ہر پاکستانی کی خواہش ہے ۔پاکستانی حکومت اور عوام اپنے بہترین دوست چین کے ساتھ ا اس منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم قدم ہو کر اس منزل تک پہنچنے کا پورا یقین ہے۔