Official Web

پاکستان میں چینی زبان کی مقبولیت سے چین پاک تعاون کے فروغ میں مدد ملے گی

“چینی برج” عالمی کالج کے طلباء کے لئے چینی زبان کا 19 واں مقابلہ اور “چینی برج” عالمی مڈل اسکول کے طلبا کے لئے چینی زبان کا 13 واں مقابلہ رواں سال ستمبر سے دسمبر تک منعقد ہوں گے۔ وبا کی وجہ سے چینی وزارت تعلیم کے تحت چین کا  زبان کوآپریشن اینڈ ایکسچینج سینٹر  چینی نیشنل فائیو جی نیو میڈیا پلیٹ فارم یانگ ویڈیو کے ساتھ فائیو جی “کلاؤڈ ریکارڈنگ” کے جدید پروگرام کے پروڈکشن  موڈ کا استعمال کرتے ہوئے مزید انٹرایکٹو “چینی برج” بنائے گی۔ ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے والے اور نیٹیزین اس مقابلے میں حصہ لے سکتے ہیں ، جس سے “چینی برج” مقابلے مزید وسیع پیمانے پر شرکت کے پلیٹ فارم بن جائیں گے۔

زبان نہ صرف لوگوں میں ابلاغ کے   پل  کے طور پر کام کرتی ہے ، بلکہ ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔  جیسا کہ مقابلے کا سلوگن ہے “چینی زبان کے پل سے  دنیا ایک خاندان بن جائےگی”۔ چینی زبان نہ صرف خصوصی خوبصورتی کی حامل ہے، بلکہ بہت دلچسپ بھی ہے۔ “چینی برج” مقابلے کا مقصد ثقافتی اختلافات کو دور کرتے ہوئے دنیا بھر کے نوجوانوں کو چینی زبان کے جادو سے آگاہ کرنا ہے اور چینی زبان کے ذریعے چینی ثقافت کو بہتر انداز میں فروغ دینا ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان میں چینی زبان سیکھنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ نامکمل اعدادوشمار کے مطابق ، رواں سال مئی تک “بیلٹ اینڈ روڈ” کے اہم منصوبے سی پیک سے پاکستان میں مقامی لوگوں کے لئے 75،000 سے زیادہ ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مضبوط بنایا جارہا ہے، چینی زبان بولنے والے باصلاحیت افراد کی بڑی ضرورت ہے۔ چینی زبان سمجھنے والے باصلاحیت افراد دونوں ممالک میں “پل” کا کردار ادا کریں گے ، لسانی رکاوٹوں  کو دور اور  ثقافتی مغالطوں کو درست کریں گے اور چین پاکستان تعاون کو اعلیٰ سطح تک فروغ دیں گے۔

اکیسویں صدی ایشیا کی صدی ہے ۔ “چینی زبان سے محبت” کا مطلب  “چائنا سے محبت” ہے۔ چین کے بین الاقوامی اثر و رسوخ کی مسلسل بہتری کے ساتھ ، دلکش  چینی حروف زیادہ سے زیادہ پاکستان کے کلاس رومز میں داخل ہوں گے ، اور چینی زبان میں کہی جانے والی چینی کہانیاں اور عالمی کہانیاں زیادہ سے زیادہ پاکستانی دوست سنیں گے۔  چینی زبان سیکھنے سے  چینی تہذیب کو گہرائی سے سمجھنے کی خواہش کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ ہمیں امید ہے  کہ ایشیائی ثقافت کے شوقین پاکستانی نوجوان قدیم شاہراہ رشیم کی اصل روح کو فروغ دیتے ہوئے ایشیائی تہذیبوں کے مابین باہمی تبادلوں کو مزید فروغ دیں گے ، مشترکہ خوشحالی کے لیے کوشش کریں گے ، اور چین اور پاکستان کے عوام کے درمیان دوستی کے فروغ کے لیے اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔