Official Web

اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیرمیں سنگین صورتحال کے تدارک کیلئےکردارادا کرے:وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سنگین صورتحال کے تدارک کے لئے اپنا جائز کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کشمیری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں دیے گئے حق خود ارادیت کا استعمال کر سکیں۔

وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس کے منتخب صدر وولکن بوزکر سے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے آج اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی۔

وزیراعظم نے گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد سے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، کشمیری عوام کے انسانی حقوق کو منظم انداز میں سلب کرنے کی جاری کارروائیوں اور مقبوضہ وادی کا آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں کے بارے آگاہ کیا۔

اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے نومنتخب صدر وولکن بوزکر نے ملاقات کی جس میں افغان امن عمل سمیت خطے میں جاری امن کی کوششوں، بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے وولکن بوزکر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ دنیا ایک طرف کورونا عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے کیلئے کوشاں ہے تو دوسری طرف ہم عالمی معاشی بحران کو پنپتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ کورونا عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر جامع اور مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔

وزیر خارجہ نے جنرل اسمبلی کے صدر کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان مشترکہ ذمہ داری کے تحت افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنا مصالحانہ کردار خلوص نیت سے ادا کر رہا ہے۔خطے میں دیرپا امن و استحکام کیلئے بین الافغان مذاکرات کا جلد انعقاد ناگزیر ہے۔

اس سے پہلے وولکن بوزکر کی وزارت خارجہ پہنچے تو وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے استقبال کیا۔ وولکن بوزکر نے وزارت خارجہ کے لان میں بھی پودا لگایا۔