Official Web

پاکستانی نژاد کامیڈین کُمیل ننجیانی آسکر ایوارڈ کیلئے نامزد

لاس اینجلس : آسکرز ایورڈ 2018 کی نامزدگیوں میں پاکستانی نژاد امریکی کامیڈین و اداکار کمیل ننجیانی بہترین اوریجنل اسکرین پلے رائٹنگ کی کیٹگری کے لیے نامزد ہوگئے۔

2017 میں ریلیز ہونے والی امریکی رومانوی و کامیڈی فلم ’’دا بِگ سِک‘‘ کو مائیکل شووالٹر نے ڈائریکٹ کیا تھا جبکہ کمیل ننجیانی اور ان کی اہلیہ ایمیلی وی گورڈن نے مشترکہ طور پر اس کی کہانی تحریر کی تھی لہٰذا ان کی اہلیہ بھی اس ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی ہیں۔

اس فلم میں خود کمیل ننجیانی نے اداکاری بھی کی تھی جبکہ بھارتی اداکار انوپم کھیر بھی اس فلم کا حصہ تھے۔

2017 میں اس فلم کو ہالی ووڈ فلم ایوارڈز میں بھی ایک ایوارڈ دیا گیا تھا اور یہ فلم کمیل ننجیانی کی اپنی زندگی کی کہانی پر مبنی ہے کہ کس طرح ایک پاکستانی کامیڈین امریکا آتا ہے اور اسے کن چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔

آسکر 2018 کی نامزدگیاں

آسکر ایوارڈز جسے اکیڈمی ایوارڈز بھی کہا جاتا ہے، اس کی نامزدگیوں کا اعلان کردیا گیا ہے جس میں فلم ’دی شیپ آف دی واٹر‘ نے سب سے زیادہ 13 کیٹیگریز میں جگہ بنائی ہے۔

اکیڈمی ایوارڈ دنیا کا سب سے بڑا فلمی ایوارڈ ہے جس میں ہالی وڈ سمیت دنیا بھر کی فلموں کو ایوارڈز کے لیے نامزد کیا جاتا ہے۔

رواں سال 90 ویں ’آسکر ایوارڈ‘ کی نامزدگیاں بھی جاری کردی گئی ہیں جس نے سب کو حیران کردیا ہے۔

اکیڈمی ایوارڈ میں فلم ’دی شیپ آف دی واٹر‘ نے 13 شعبوں میں نامزدگیاں حاصل کرلی ہیں جس میں بہترین فلم، بہترین اداکارہ، بہترین معاون اداکار و اداکارہ، بہترین ہدایت کار سمیت کئی دیگر شعبے بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ فلم ’تھری بل بورڈز آؤٹ سائیڈ ایبنگ، میسوری‘ نے 9 اور فلم ’ڈنک کریک‘ نے 7 کیٹیگریز میں نامزدگیاں حاصل کی ہیں۔

غیرملکی زبانوں کی بہترین فلم کی کیٹیگری میں چلی سے ’ اے فنٹاسٹک ویمن‘، لبنان سے ’دی انسلٹ‘، روس سے ’لو لیس‘، ہنگری سے ’آن باڈی اینڈ سول‘ اور سوئیڈن سے ’دی اسکوائر‘ شامل ہیں جبکہ کوئی بھارتی یا پاکستانی فلم اس میں جگہ نہ بناسکی۔

ایوارڈ کی نامزدگیوں پر انگلش میڈیا نے حیرانی کا اظہار کیا ہے اور کئی چینلز نے ان نامزدگیوں کو ’سرپرائز‘ قرار دیا ہے۔

آسکر ایوارڈ کی تقریب 4 مارچ کو لاس اینجلس میں منعقد ہوگی جس میں کئی نامور اسٹار شریک ہوں گے۔

دوسری جانب ہالی وڈ میں قدم رکھنے والی بالی وڈ حسینائیں دپیکا پڈوکون اور پریانکا چوپڑا کی فلمیں ان نامزدگیوں میں شامل نہ ہوسکیں اور نہ ہی کوئی بھارتی فلم غیر ملکی فلموں اور ڈاکیومنٹریز میں جگہ بنا سکی ہے۔