Official Web

پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں سورج گرہن

پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں سورج گرہن دیکھا گیا۔

کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سورج گرہن کے موقع پر شہر کی مساجد میں نماز کسوف کا اہتمام کیا گیا جب کہ نماز کسوف کے دوران استغفار اورخصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔

ملک بھرکی طرح راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی سورج گرہن ہوا، سورج گرہن 10 بج کر43 منٹ تک دیکھاگیا۔ اسلام آباد میں دھند کی وجہ سے شہری سورج گرہن کو دیکھ نہیں سکتے۔ اسلام آباد کے اکثرعلاقے شدید دھند کی لپیٹ میں ہیں دھند کی وجہ سے حدنگاہ متاثر ہورہی ہے جبکہ سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: 26 دسمبر کو ہونیوالے سورج گرہن کے حوالے سے ماہرنجوم کی اہم پیشگوئیاں

آج ہونے والا سورج گرہن 2019 کا آخری سورج گرہن ہے۔ 20 سال بعد ہونے والے سورج گرہن کا دورانیہ 2 گھنٹے 37 منٹ پر محیط تھا، کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں گوادر، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، گلگت میں لگ بھگ 20 سال بعدآج سورج گرہن دیکھاگیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آخری باریہ عمل 11 اگست سن 1999 کو ہوا تھا جب سہ پہر کے بعد کراچی میں مکمل سورج گرہن ہوا تھا جس کے دوران ڈھلتا دن بڑی حد تک رات کے گھپ اندھیرے میں تبدیل ہوگیا تھا۔ ماضی کے سورج گرہن میں سورج کا 100 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پورے20 سال بعد 26 دسمبر کوصبح 7 بج کر34 منٹ پر سورج چاند کے پیچھے چھپنا شروع ہوا۔ 8 بج کر46 منٹ پرمکمل سورج گرہن ہوا، جبکہ اختتام 10 بج کر10 منٹ پرہوا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سورج گرہن جنوبی پاکستان خاص طورپر ساحلی علاقوں گوادر میں سب سے زیادہ دیکھا گیا۔ گوادر میں 0.82 اور کراچی میں 0.77 فیصد شدت جبکہ کوئٹہ میں 0.64، لاہور میں 0.52، پشاور0.50، اسلام آباد 0.49، مطفرآباد 0.47 جبکہ گلگت میں 0.43 رہی۔

پاکستان بھر کے علاوہ مشرقی یورپ، شمال مغربی آسٹریلیا، مشرقی افریقا، پیسفیک اوربحرہند میں بھی نمایاں طورپر سورج گرہن دکھائی دیا۔ ماہرین نے لوگوں کو سورج کی جانب براہ راست نہ دیکھنے کا مشورہ دیاتھا، اس کے علاوہ احتیاطی تدابیر کے طور پر بتایا تھا کہ سورج گرہن کے وقت گھر سے باہر نہ جائیں کیونکہ کھلے آسمان کے نیچے سورج کی تابکار شعاعیں خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔