Official Web

جسٹس گلزار احمد نے چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

اسلام آباد: جسٹس گلزار احمد نے چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھالیا۔ صدر مملکت عارف علوی نے ان سے عہدے کا حلف لیا، تقریب حلف برداری میں وزیراعظم اور آرمی چیف سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔

سادہ و پروقار تقریب ایوان صدر اسلام آباد میں ہوئی، تقریب میں قومی ترانے کی دھن بجائی گئی۔ قومی ترانے کے احترام میں جسٹس گلزار احمد، صدر مملکت عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان سمیت تمام اعلٰی شخصیات کھڑی رہیں۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، حلف اٹھانے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد اور صدر مملکت عارف علوی نے دستاویز پر دستخط کئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کو عہدے کا حلف اٹھانے پر مبارکباد دی۔

یاد رہے جسٹس گلزار احمد 2 سال ایک ماہ اور دس دن تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہیں گے، جسٹس گلزار احمد پاکستان کے 27 ویں چیف جسٹس ہیں۔ وہ ناصرف چوٹی کے وکیل رہے بلکہ بحیثیت جج بھی اعلیٰ روایات کے امین ہیں۔ ملکی تاریخ کے اہم ترین مقدمات کی سماعت کرنے والے بنچز کا بھی حصہ رہے۔

جسٹس گلزار احمد نے گریجویشن گورنمنٹ نیشنل کالج کراچی اور ایل ایل بی ، ایس ایم لا کالج کراچی سے کیا۔ جسٹس گلزار احمد 27 اگست 2002ء کو سندھ ہائیکورٹ جبکہ 16 نومبر 2011ء کو سپریم کورٹ کے جج بنے۔

جسٹس گلزار احمد پاناما بنچ کا حصہ رہے جبکہ کراچی میں چائنا کٹنگ اور قبضہ مافیا کے خلاف فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کی روشنی میں 500 سے زائد غیر قانونی عمارتوں کو مسمار کیا گیا۔

ن لیگی رہنما طلال چودھری کی نااہلی سمیت بہت سے اہم کیسز کا فیصلہ کرنے والے بنچ کا بھی حصہ رہے۔ جسٹس گلزار احمد بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان یکم فروری 2022ء کو ریٹائرڈ ہونگے۔

اس سے قبل جسٹس آصف سعید خان کھوسہ 11 ماہ 2 دن چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پہ فائز رہے۔ وہ دو وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو نااہل کرکے گھر بھیجنے والے بینچز سمیت اہم کیسز کا حصہ رہے۔