Official Web

جنرل باجوہ نے جمہوری اداروں کا ساتھ دیا، اسے کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے: فواد چوہدری

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور  موجودہ فوجی سیٹ اپ نے جمہوری اداروں کا ساتھ دیا ہے لیکن اس حمایت کو نادانی میں کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔

اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر سلسلہ وار ٹوئٹس میں خصوصی عدالت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاملہ پرویز مشرف کی ذات کا نہیں بلکہ ایک خاص حکمت عملی کے ساتھ پاک فوج کو ٹارگٹ کیا گیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پہلے لبیک دھرنا کیس میں فوج اور آئی ایس آئی کو ملوث کیا گیا، پھر آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کو متنازع بنایا گیا۔

Ch Fawad Hussain

@fawadchaudhry

معاملہ پرویز مشرف کی ذات کا ہے ہی نہیں ایک خاص حکمت عملی کے ساتھ پاکستان فوج کو ٹارگٹ کیا گیا، پہلے لبیک دھرنا کیس میں فوج اور ISI کو ملوث کیا گیا، پھر آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کو متنازع بنایا گیا اور اب ایک فوج کےمقبول سابق سربراہ کو بے عزت کیا گیا

Ch Fawad Hussain

@fawadchaudhry

واقعات کا تسلسل عدالتی اور قانونی معاملہ نہیں رہا اس سے بڑہ کر ہے۔ اگر ملک میں فوج کے ادارے کو تقسیم یا کمزور کر دیا گیا تو پھر انارکی سے نہیں بچا جا سکتا، جنرل باجوہ اور موجودہ فوجی سیٹ اپ نے جمہوری اداروں کا ساتھ دیا ہے، لیکن اس حمائیت کو نادانی میں کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے

1,067 people are talking about this

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اب فوج کےایک مقبول سابق سربراہ کو بے عزت کیا گیا۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ واقعات کا تسلسل عدالتی اور قانونی معاملہ نہیں رہا بلکہ اس سے بڑھ کر ہے، اگر ملک میں فوج کے ادارے کو تقسیم یا کمزور کر دیا گیا تو پھر انارکی سے نہیں بچا جاسکتا۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کی شرعی عدالت میں قائم خصوصی عدالت نے تقریباً 6 سال کی سماعت کے بعد سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائی ہے۔

 کیس سننے والے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے فیصلے کے پیرا گراف نمبر 66 میں لکھا کہ اگر پرویز مشرف انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو تین روز تک اسلام آباد کے ڈی چوک پر لٹکایا جائے۔

مذکورہ پیراگراف کی وجہ سے حکومت نے  جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔