Official Web

’وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کو ہرصورت گرفتار کیا جائےگا‘

صوبائی وزیراطلاعات فیاض چوہان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کو ہرصورت گرفتار کیا جائےگا۔

اپنے بیان میں فیاض چوہان نے کہا کہ نئے پاکستان میں وزیراعظم کےبھانجے کی گرفتاری کیلئے اب تک 5 مقامات پر چھاپے مارے گئے،،حسان نیازی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ان کا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے کوئی تعلق نہیں۔

جگہ جگہ چھاپوں کے باوجود پنجاب پولیس حسان نیازی کو ڈھونڈنے میں ناکام

انہوں نے کہا کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) حملہ کیس میں 54 ملزمان گرفتارہیں جن میں سے 47 جوڈیشل ریمانڈ پر جیل جا چکے ہیں، اسپتال عملے کے تحفظ کیلئے بل لا رہے ہیں۔

قانون توڑنے والاکتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو کارروائی ہوگی، گورنر پنجاب
گورنر پنجاب چوہدری سرور کا کہنا ہے کہ قانون توڑنے والا کتنا ہی بااثر اور اہم خاندان سے کیوں نہ ہو، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ وکلاء اور ڈاکٹرز دونوں اہم ادارے ہیں، ان کی آپس میں لڑائی اچھی بات نہیں۔

خیال رہے کہ 11 دسمبر 2019 کو وکلاء نے دل کے اسپتال پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں خاتون سمیت 3 مریض بروقت علاج نہ ملنے پر انتقال کرگئے تھے۔

وکلاء نے اسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور ڈاکٹرز، عملے اور تیمارداروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ ڈالے تھے۔

پی آئی سی پر حملہ کرنے والے وکلاء کے جتھے میں وزیراعظم عمران خان کے بھانجے بیرسٹر حسان نیازی بھی شریک تھے اور انہیں مختلف کارروائیاں کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی کی گرفتاری سے متعلق شاہ محمود قریشی کا مؤقف

حسان نیازی حملہ آوروں کو اکساتے رہے، پتھر اور ڈنڈے مارنے والوں کا ساتھ دیتے رہے، جس پولیس موبائل کو وکیلوں نے شعلوں کی نذر کیا اور جلتی موبائل پر ڈانس کیا، اُس پولیس موبائل کا دروازہ حسان نیازی نے ہی اپنے ہاتھوں سے کھولا تھا۔

صوبائی حکومت اور پولیس نے ایکشن لیا اور لاٹھی چارج کیا جبکہ وکلاء کو حراست میں لیا لیکن ویڈیو میں حسان نیازی کا چہرہ واضح نظر آنے کے باوجود حسان نیازی کو اب تک حراست میں نہ لیا جاسکا۔

ہنگامہ آرائی کے دوران فیاض الحسن چوہان بھی بیچ بچاؤ کیلئے پی آئی سی پہنچے تھے تاہم وکلاء نے ان کی بھی درگت بنادی تھی اور انہیں اپنی جان بچاکر وہاں سے بھاگنا پڑا تھا۔