Official Web

مارچ والوں نے معاہدہ توڑا تو ہم نتائج کے ذمہ دار نہ ہوں گے: حکومتی مذاکراتی ٹیم

اسلام آباد: آزادی مارچ کے لیے حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ مارچ والوں نے معاہدہ توڑا تو نتائج کی ذمہ داری ہم پر نہ ہو گی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے لیے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ و وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت دیگر رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔

وزیر داخلہ پرویز خٹک

وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ ہم نے جلسےکی اجازت دے کر رسک لیا ہے لیکن معاہدہ توڑا گیا تو نتائج کی ذمہ داری ہم پر نہ ہو گی۔

آزادی مارچ: حکومت نے کسی کا کنٹینر پکڑا تو نقصان بھی بھرے گی، عدالت

انہوں نے کہا کہ جلسے کی جگہ کا انتخاب بھی جے یو آئی نے کیا، ایچ نائن ان کی ریڈ لائن ہے۔

پرویز خٹک نے بتایا کہ پشاور، سوات میں بسیں روکی جا رہی ہیں تویہ ہماری مرضی سے نہیں ہو رہا، خیبرپختونخوا کے کچھ علاقوں میں انتظامیہ اپنے طور پر کارروائی کر رہی ہے مگر امید ہے رہبر کمیٹی وعدہ نہیں توڑے گی۔

رہنما شفقت محمود

مذاکراتی کمیٹی کے رکن شفقت محمود نے کہا کہ ہم نے پریڈ گراؤنڈ تجویزکیا تھا لیکن انہوں نے پشاور موڑ پر آمادگی ظاہر کی، ڈی چوک میں کسی کو نہیں آنے دیں گے، رہبر کمیٹی کی جانب سے معاہدہ توڑا گیا تو عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہو گی۔

اسپیکر اسد قیصر

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ رہبرکمیٹی نے کہا تھا کہ ہم ہر وعدہ پورا کریں گے، ہمیں امید ہے معا ملات نہیں بگڑیں گے۔

رہنما اسد عمر

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ایک اور رکن اسد عمر نے کہا کہ جے یو آئی والے جب تک چاہیں اسلام آباد میں بیٹھیں، بس کوئی قانون نہ توڑیں۔

جے یو آئی (ف) کا آزادی مارچ آج اسلام آباد پہنچے گا

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ کو قانون پر عمل درآمد کا مکمل اختیار دے دیا گیا ہے، ہم نے یہ شق ڈالی کہ ملک میں کہیں بھی خلاف ورزی ہوئی تو معاہدہ ٹوٹ جائے گا۔

یاد رہے کہ آزادی مارچ کے حوالے سے حکومت اور جے یو آئی (ف) کےدرمیان معاہدے طے پایا ہے جس کے تحت جمعیت علمائے اسلام (ف) ایچ 9 کے اتوار بازار کے قریب گراؤنڈ میں جلسہ کرے گی۔