Official Web

عراق ميں حکومت مخالف پُرتشدد مظاہروں میں 42 افراد ہلاک

بغداد: عراق میں ایک بار پھر حکومت مخالف پُر تشدد مظاہروں کا آغاز ہوگیا ہے جس کے دوران 42 افراد ہلاک اور 2 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کچھ دنوں کے تعطل کے بعد ایک بار پھر عراق کی شاہراؤں پر مظاہرین کا قبضہ ہے جو سرکاری دفاتر کے علاقے میں داخل ہونا چاہتے ہیں، عمارتوں کو نذر آتش اور ٹائر جلائے جا رہے ہیں، توڑ پھوڑ جاری ہے۔

Iraq Protest 2

دوسری جانب سیکیورٹی فورسز نے مشتعل مظاہرین کو سرکاری دفاتر سے دور رکھنے کے لیے جارحانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے جس کے باعث دو دنوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 42 ہوگئی ہے جب کہ 2 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔

Iraq Protest 3

ہائی کميشن فار ہيومن رائٹس نامی واچ ڈاگ کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد وشمار کے تحت دارالحکومت بغداد میں 8 افراد جب کہ ميسان، ذی قار اور بسرا میں نو نو افراد ہلاک ہوئے، مظاہرین نے لگ بھگ 50 سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کیا۔ مظاہرين کو منتشر کرنے کے ليے گولياں چلائيں اور آنسوگيس کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔

Iraq Protest 4

واضح رہے کہ عراق میں رواں ماہ کے آغاز سے شہریوں نے بدعنوانی اور بے روزگاری کے خاتمے اور سیاسی نظام میں وسیع تر اصلاحات کے لیے احتجاج شروع کیا تھا جو اب پر تشدد صورت اختیار کر گیا ہے، مظاہروں کے پہلے مرحلے میں بھی درجنوں افراد مارے گئے تھے تاہم دوسرے مرحلے میں زیادہ نقصان کا خدشہ ہے۔

Iraq Protest 1