Official Web

عدالت کی جانب سے پدماوت سے پابندی ہٹائے جانے کے بعد پھر پرتشدد مظاہرے

انڈیا میں سپریم کورٹ کی جانب سے بالی وڈ فلم پدماوت سے پابندی ہٹائے جانے کے بعد فلم کی ریلیز سے قبل ہی احتجاج اور پرتشدد واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔

جن چار ریاستوں جہاں فلم پر پہلے پابندی عائد کی گئی تھی وہاں اس کی ریلیز کے موقعے پر احتجاج کیا گیا۔

ریاست گجرات میں انتہا پسند ہندوؤں نے بسوں کو آگ لگائی اور تھیٹرز میں توڑ پھوڑ کی۔

مدھیہ پردیش اور راجھستان کے ارکان پارلیمان نے سپریم کورٹ میں ایک ہنگامی پٹیشن دائر کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ تشدد کے خطرے کے پیشِ نظر پابندی کو دوبارہ عائد کیا جائے۔ عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

عدالتی حکم اور کڑی نگرانی کے باوجود کئی سینیما مالکان نے تشدد کے خوف سے یہ فلم نہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فلم 25 جنوری کو ریلیز ہونی ہے۔ اس فلم میں 14 صدی کی ایک ہندو راجپوت ملکہ اور مسلم حکمران علاؤالدین خلجی کی کہانی دکھائی گئی ہے۔ اس فلم میں دیپیکا پادوکون اور رنویر سنگھ مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

ہندو گروہوں اور راجپوت تنظیموں کا الزام ہے کہ سنجے لیلا بھنسالی کی اس فلم میں دونوں کے رومانوی مناظر دکھائے گئے ہیں اور یہ ان کی ملکہ کی توہین ہے۔ جبکہ فلم کے پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ اس فلم میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

پیر کو احتجاج کے پیشِ نظر بسوں کے 100 سے زائد روٹ بند ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن نے یہ فلم چند تاریخ دانوں کو دکھائی جنھوں نے اس میں کچھ تبدیلیاں تجویز کیں جن میں سے ایک فلم کا نام ’پدماوتی‘ سے تبدیل کر کے ’پدماوت‘ رکھنا شامل تھا۔