Official Web

چائنہ ونڈو کی ڈائریکٹر ناز پروین کے دورہ چین سے متعلق سفرنامہ کی تقریب رونمائی

شنجیان کے خوش حال ویغور

آج کل جبکہ پاکستان میں سی پیک کے حوالے سے خاصی پیش رفت ہو رہی ہے اور برادر ہمسایہ ملک چین پاکستان کی معاشی و اقتصادی ترقی و خوش حالی کے اس منصوبے کے دوسرے مرحلہ میں داخل ہو رہا ہے ایسے میں چین کے بارے میں مقامی کالم نگار ناز پروین کا سفر نامہ شائع ہو گیا ہے۔خیبر پختون خوا سے کسی بھی کالم نگار کا چین سے متعلق یہ پہلا سفرنامہ پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو نے شائع کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین اور سابق وزیر خارجہ پاکستان بلاول بھٹو زرداری، گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی اور پشاور پریس کلب کے صدر ارشد عزیز ملک نے گورنر ہاؤس میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں سفرنامہ کی رونمائی کی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ سفرنامہ پاک چین دوستی میں عوامی سطح پر رابطوں کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہیں یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ پشاور میں چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو پاکستان اور چین کے درمیان دوستی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔سفرنامہ کو ” شینجان کے خوش حال ویغور ” کا نام دیا گیا ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مصنفہ نے چین کے صوبہ سنکیانگ میں بسنے والے چینی مسلمانوں سے متعلق حقائق پڑھنے والوں تک پہنچائے ہیں تاکہ برادر ہمسایہ ملک چین سے متعلق مغربی میڈیا کے پروپیگنڈے کا جواب دیا جا سکے۔ چین میں پاکستان کی سابق سفیر نغمانہ ہاشمی ، پاک چین دوستی کے علم بردار سابق سینیٹر مشاہد حسین سید اور خیبر پختون خوا کی ممتاز ادیبہ ،شاعرہ اور دانشور ڈاکٹر شاہدہ سردار نے اپنے تاثرات میں ناز پروین کی اس قلمی کاوش کو پاکستان اور چین کے درمیان دوستی خاص طور پر عوامی سطح کے رابطوں کا اہم
سنگ میل قرار دیا ہے۔


مصنفہ نے کمال مہارت سے اس سفرنامہ کو ترتیب دیا اور جس خوبصورتی کے ساتھ الفاظ کا انتخاب کیا وہ بھی نہ صرف پڑھنے والوں کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ سفرنامہ ہمارے اردو ادب میں بھی اہمیت کا حامل تصور کیا جائے گا تو یہ غلط نہ ہو گا۔
صحافیوں اور کالم نگاروں کے حالیہ دورہ چین جس میں انہیں بیجنگ، چھنگڈو، کاشغر اور ارومچی لیجایا گیا یقینی طور پر انتہائی کا اہمیت کا حامل دورہ تھا۔ وفد میں شامل ناز پروین نے اس دورے کو سفر نامہ کی صورت کتاب کی شکل دے کر اسے تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے۔انہوں نے نہ صرف بڑے آسان الفاظ میں قارئین کو گھر بیٹھے چین کے چار مختلف شہروں کی سیر کروا دی بلکہ اعداد و شمار کے ساتھ چین کی حقیقی ترقی کو بھی سامنے رکھا ہے۔انہوں نے چین کی تاریخ کا بھی گہرا مشاہدہ کیا اور پھر چین کی جغرافیائی سرحدوں کا بھی تذکرہ کیا۔ مصنفہ نے ایک محب وطن پاکستانی اور چین کا قابل فخر دوست ہونے کا حق کچھ اس طرح سے ادا کیا کہ کتاب کانام شینجان کے خوش حال ویغور رکھ دیا۔انہوں نے برادر ہمسایہ ملک چین کے بارے میں اس پروپیگنڈے کی نفی کرنے کی کوشش بھی کی جو میڈیا کا یک سیکشن مسلسل کر رہا ہے۔ یہ تبھی ممکن ہوا جب انہوں نے بہ نفس نفیس ارومچی اور کاشغر کا دورہ کیا۔ اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا اور پھر اسے اپنے قلم کے سپرد کر دیا۔ کتاب پڑھتے ہوئے کچھ ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ دوستی محض ایک دوسرے کو پسند کرنے کا نام نہیں بلکہ حقیقت میں یہ اس سے کہیں زیادہ کا درجہ ہے جسے حاصل کرنے کے لئے آپ کو ادب کا رتبہ بھی درکار ہوتا ہے اور ناز پروین نے اس تصور کو سامنے رکھتے ہوئے پاک چین دوستی کو ایک نئی جلا بخشی ہے جس کے اثرات تادیر رہیں گے۔ یہ سفرنامہ اردو زبان کے بعد انگریزی اور چینی زبانوں میں بھی شائع ہو گا تاکہ دنیا بھر میں اسے پڑھا جا سکے اور مصنفہ کے مشاہدات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔