Official Web

ہمارے درمیان اب بھی کچھ لوگ آمریت کے حامی ہیں: بلاول بھٹو

کراچی:  پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمارے درمیان اب بھی کچھ لوگ آمریت کے حامی ہیں۔

سانحہ 5 جولائی کے حوالے سے اپنے پیغام میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پانچ جولائی ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، آج کے دن 1977ء میں ایک آمر نے ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم کی حکومت پر شب خون مارا، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت گرانے کے نتیجے میں ملک کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ اس سیاہ دن نے قوم کو انتہا پسندی، دہشت گردی اور کلاشنکوف و منشیات کی مصیبتوں سے دوچار کیا، اس سیاہ دن نے ملک کو ایسی مصیبتوں کے سامنے لا کھڑا کیا جن سے ہم آج بھی نبرد آزما ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بے پناہ مصائب برداشت کرنے کے باوجود ہمارے درمیان اب بھی کچھ لوگ آمریت کے حامی ہیں، وہ لوگ جمہوریت کو نقصان پہنچانے کیلئے ہر وقت تاک میں رہتے ہیں، جنرل ضیاء نے جمہوریت پسندوں، لبرلز اور محب وطن لوگوں کے خلاف بربریت کو بے لگام کر رکھا تھا۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ جمہوریت پسندوں کو قید و بند، کوڑے کی سزائیں اور جلاوطنی کے علاوہ پھانسیاں دی گئیں، آج کے نوجوان ضیاء دور میں جیالوں کو درپیش مشکل حالات کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ گھناؤنے انتقامی کارروائیوں اور آمرانہ حکومت کی دہشت گردی کے باوجود پاکستانی عوام اور جیالوں کا عزم و جذبہ غیر متزلزل رہا، جیالے ثابت قدم رہے اور جمہوریت کی بحالی کیلئے اٹل ارادے اور حوصلے کے ساتھ لڑتے رہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ملک میں جمہوریت پیپلز پارٹی کے قائدین اور کارکنوں کی قربانیوں کی وجہ سے ہے، آج قوم جمہوریت کی خاطر بے پناہ مصائب برداشت کرنے والوں کی قربانیوں کو یاد کرتی ہے، آج ہم ان اقدار کی پاسداری کے عزم کی تجدید کرتے ہیں جن کیلئے شہید بھٹو اور دیگر لوگوں نے بہادری سے جدوجہد کی۔