Official Web

الیکشن ٹربیونلزکی تشکیل کا فیصلہ معطل کرنےکی الیکشن کمیشن کی استدعا مسترد

سپریم کورٹ نے الیکشن ٹریبونلزکی تشکیل کا فیصلہ معطل کرنےکی الیکشن کمیشن کی استدعا مسترد کر دی۔

الیکشن ٹربیونلز کیس میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ سمجھ نہیں آیا الیکشن کمیشن نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے بات کیوں نہیں کی، آئین میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ کسی جج سے ملاقات نہیں کر سکتے، ملاقات کرنے میں انا کی کیا بات ہے؟ دونوں ہی آئینی ادارے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا الیکشن کمیشن متنازع ہی کیوں ہوتا ہے؟ آپ لوگ الیکشن کرانے میں ناکام رہے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا ایوان صدر جانے کا اتفاق ہوا تو الیکشن کمیشن بالکل سامنے ہے، الیکشن کمیشن کیسے صدارتی آرڈیننس بنا رہا ہے؟ یہ تو پارلمینٹ کی توہین ہو گی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا آپ کہہ رہے ہیں الیکشن کرانا ہماری ذمہ داری ہے، ہائیکورٹ دور رہے، آپ کیسے کہہ رہے ہیں کہ صدارتی آرڈیننس لا سکتے تھے؟ کیا یہ قانونی ہے؟

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے کہا میں نے قانون نہیں بنایا، جنرل بات سے زیادہ نہیں کر سکتا، آرڈیننس کا دفاع نہیں کر رہا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ میں کیسز کی ذمہ داری میری ہے، اپنی کمزوری کو وجہ نہ بنائیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا سے استفسار کیا کیا آرڈیننس کو چیلنج نہیں کیا؟ جس پر سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ آرڈیننس کو لاہور اور اسلام آباد ہائیکورٹس میں چیلنج کیا ہے، چیف جسٹس نے پوچھا مختلف ہائیکورٹس کیوں؟ آرڈیننس تو پورے ملک میں لگے گا۔

فاضل چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن ٹریبونل کے لیے آئین کیا کہتا ہے؟ پارلیمنٹ قانون بناتی ہے، ہم قانون کی حفاظت کرتے ہیں، جس کا کام ہے اسے کرنے دیا جائے، ایک میٹنگ میں بیٹھ کر سب طے کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں ہوا اس لیے اس پر نوٹس نہیں کر سکتے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا جب کچھ پسند نہیں آتا تو قانون بدل دیتے ہیں، جب پارلیمنٹ نے قانون بنا دیا تو آرڈیننس پارلیمنٹ کی توہین ہے۔

وکیل سکندر بشیر کا کہنا تھا آرڈیننس قانونی ہے کیونکہ آئین اجازت دیتا ہے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا آرڈیننس جاری کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں، اگر پارلیمنٹ نے قانون تبدیل کیا تھا تو اسی کو آرڈیننس سے واپس لایا گیا، آرڈیننس لانے کی کون سی ایمرجنسی تھی؟

الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا عدلیہ پر زیادہ بوجھ ہونے کی وجہ سے آرڈیننس لایا گیا، جس پر چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا خالی نشستوں کو مکمل کرنا کس کا کام ہے؟

وکیل سکندر بشیر کا کہنا تھا لاہور ہائیکورٹ کے ججز کی تعداد 60 ہے جبکہ 40 کام کر رہے ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا ٹربیونل کے ججز کی تعیناتی کس کا اختیار ہے؟ ہمارے سامنے معاملہ ہے کہ ججز تعینات کون کر سکتا ہے؟ آئین کیا کہتا ہے؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا اچھے قوانین کی تشریح کی ضرورت نہیں ہوتی، الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے اور انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، آئین کے مطابق ٹربیونلز بنانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے پوچھا کیا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے؟ جس پر وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ فیصلہ قانون کے مطابق ہے لیکن بتانا چاہ رہا ہوں کہ ہائیکورٹ نے کیا کیا۔

سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کا فیصلہ معطل کرنے کی الیکشن کمیشن کی اپیل مسترد کرتے ہوئے لارجر بینچ بنانےکیلئے معاملہ تین رکنی کمیٹی کوبھجوا دیا۔